تخلیق انسان کی پہچان
تخلیق انسان کی پہچان
از قلم: اسعد اقبال یکہتوی
انسان پیدائشی طور پر نیک خصلت ہوتا ہے " کل
مولود یو لد علی الفطرۃ وابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ" جس طرح کوئی مصور خراب تصویر نہیں بناتا اور نہ کوئی درست کار خراب سامان نہیں بناتا اسی طرح پروردگار نے بھی انسانوں کو بری فطرت اور بد مزاج نہیں بنایا ہے سارے انسان ایک ہی فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں انسانوں کے حالات اور ان کو میسر ہونے والے ماحول ان کو بناتے اور بگاڑتے ہیں کوئی اناڑی یا نیم دستکار جب کوئی سامان بناتا ہے تو اس کی ناتجربہ کاری اور ہنر نہ ہونے کی وجہ سے اس کے کام میں خرابی رہ جاتی ہے لیکن ماہر اور ہنر مند دستکار کا بنایا ہوا سامان ہر طرح اور ہر پہلو سے عمدہ اور قابل تعریف ہوتا ہے ۔۔۔
اسی طرح قدرت کا بنایا ہوا انسان ناقص ہو ہی نہیں سکتا ہے وہ ہر اعتبار سے اچھا ہوتا ہے_دنیا میں جتنے برے لوگ ہیں ان کی پچھلی زندگی کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایک سیدھا سادھا اچھی طبیعت کا بچہ تھا یا تو ان کے ماں باپ نے یا ان کے رشتہ داروں نے اپنی بے توجہی کی وجہ سے اس بچے کو برا بنا دیا یا برے لوگوں کی صحبت میں پڑ کر وہ بچہ برا بن گیا_پھر جب وہ بڑا ہوا اور اس نے دنیا کے خودغرض جھوٹے اور مکار لوگوں کو دیکھا اور ان سے دھوکا کھایا تو بدلے اور انتقام کی آگ نے اس کو پکا بدمعاش بنا دیا، یہ ایسی سچائی ہے جس کو دنیا کے تمام سمجھ دار اور باشعور لوگ مانتے اور تسلیم کرتے ہیں_ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ انسان کو اچھا بننے کے لئے سب سے پہلے اپنی پہچان کرنی چاہیے اسے اپنے بارے میں بھی اور دوسروں کے بارے میں بھی یہ یقین رکھنا چاہیے کہ نہ میں خود برا ہوں اور نہ میرے سامنے والا برا ہے ہم دونوں ہی اچھے ہیں مگر ہمارے حالات نے ہم کو ایسا بنا دیا ہے دنیا میں ہر بگڑی ہوئی چیز کو سدھارا اور سنوارا جا سکتا ہے اسی سدھارنے اور سنوار نے کا نام ہی زندگی ہے اچھے لوگ زندگی کے ہر کام کو بنانے میں لگے رہتے ہیں اور برے لوگ بنے ہوئے کام کو بگاڑنے کی تدبیر کرتے رہتے ہیں، اچھے لوگ اس صورتحال کو دیکھ کر مایوس اور ناامید ہو کر بیٹھتے نہیں بلکہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں_
چنانچہ انسان اگر اچھا بننا چاہے تو اس کے اندر شوق، لگن اور حوصلہ ہونا چاہیے انسان جو کچھ بھی سیکھتا ہے شوق اور کوشش سے ہی سیکھتا ہے جس طرح وہ دنیا کی بہت ساری چیزیں شوق اور محنت سے سیکھ جاتا ہے اسی طرح وہ ایک اچھا انسان بھی بن سکتا ہے_ اپنی پہچان ہر انسان کو اسی طرح کرنی چاہیے کہ وہ بھی اچھا ہے اور دوسرے لوگ بھی اچھے ہیں کسی کے بارے میں پہلے ہی یہ سوچ لینا کہ وہ برا آدمی ہے بالکل غلط رویہ ہے، جب کسی انسان سے دھوکہ ہو تب اس کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ یہ برا آدمی ہے، لیکن پہلے سے نہیں انسان کی اچھی سوچ اس کی اچھی زبان اس کے کام کرنے کا انداز اس کے سینے کا ہمدرد دل اس کے سر میں موجود ایک ٹھنڈا دماغ اس کو اچھا اور بہت اچھا انسان بنا دیتا ہے ممکن ہے کہ کسی انسان کے اندر یہ ساری خوبیاں نہ ہوں، لیکن وہ کوشش کرے تو اپنے آپ کو آہستہ آہستہ بدل سکتا ہے، بد زبان بد مزاج خود غرض اور ظالم لوگ کبھی عزت نہیں پاتے دنیا میں ہر آدمی اپنی عزت چاہتا ہے ہر انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ ٹھنڈے دماغ اچھے دل اور اچھے مزاج کا آدمی بنے تب ہی اس کو عزت ملے گی یہی ہے تخلیق انسان کی پہچان جس کو تخلیق انسان کی پہچان نہ ہو وہ کیا دنیا کو پہچانے گا____
تبصرے