مدارس؛ اخوت و محبت کا پیغام دیتے ہیں ‏

  مدارس؛ اخوت و محبت کا پیغام دیتے ہیں

از قلم: اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند





 





        آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے ملک کی ہندو اکثریت کو اپنا ہم نوا بنانے میں ناکام ہو کر اب اپنے پٹے پٹائے موضوعات کو دہرانا شروع کر دیا ہے_ اور اس کے سربراہ نے اردو دشمنی میں اپنے بیانات کے بعد ان کا رخ دینی مدارس کی طرف موڑ دیا ہے، یقیناً اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس دینیہ کو اسلامی قلعوں سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا جو ملت کے نونہالوں نے دینی،فکری،علمی اور عملی ہر طرح کی غذا فراہم کرتے ہیں ان کو اپنی حقیقت سے آگاہ کرکے ان کے اندر اسلام کے ولولہ انگیز ماضی سے سبق لینے اور دنیا کو امن و اخوت سے ہمکنار کرنے کا نہ صرف جذبہ پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اسلام کی حقیقت سے واقف کراکر فکری اور روحانی قیادت و سیادت کے لیے بھی ان کو تیار کرتے ہیں مزید یہ کہ ان دینی مدارس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہرقسم کی ملی سیاسی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، آج بھی ان کی کوششوں کے اثرات کو یہاں دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے، خصوصاً مسلم طبقہ میں خواندگی کی جو شرح ہے وہ اتنی بھی نہ ہوتی اگر یہ مدارس ان کو علم سے فیض یاب نہ کرتے_ 

         ہندوستانی مدارس اس لحاظ سے بھی دنیا کی دوسری درسگاہوں سے مختلف  ممتاز ہیں کہ ان میں حب الوطنی کا درس دیا جاتا ہے اور صداقت و حقانیت امن و تہذیب اور بھائی چارگی کا پرچم بلند کیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں مدارس اسلامیہ کا وجود ہی دستوری سیکولرزم کا ثبوت ہے جس کا پورے عالم میں اعتراف کیا جاتا ہے ان مدارس سے فارغ ہونے والے علماء ہی تھے جنہوں نےملک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قائدانہ رول ادا کیا  اور اس کے بعد بھی  بڑی سے بڑی قربانی دینے میں  دریغ نہیں کیا اور اپنے تلامذہ کی ایسی جماعت تیار کی جس کے رگ و ریشہ میں حب الوطنی کا جذبہ موجزن تھا اس جماعت نے دو قومی نظریہ کا دندان شکن جواب دیا اور آخر تک تقسیم ملک کی مخالفت کرتے رہے _

         ہندوستان کا یہ دینی مراکز زبوں حالی کا شکار ہونے کے باوجود سرکاری خزانہ پر کبھی بوجھ نہیں بنے خود کنواں کھودنا اور خود پانی پینا مدارس کا شعار  رہا ہے مسلمانوں کو عملی فکری تہذیبی انحطاط سے بچانے کے لیے آج تک کارآمد ثابت ہوتے رہے ہیں _ ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ مدارس عرصہ سے فرقہ پرست تنظیموں کی آنکھ کا کانٹا بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس حقیقت کو سمجھتی ہیں کہ اسلام کو توسیع،مسلمانوں کا وجود اسلامی شعائر تحفظ دین اور اردو زبان کی بقا و ترقی نیز ملک میں مسلم تہذیب کے آثار و علامات ان مدارس ہی کی وجہ سے قائم ہے لہذا وقتاً فوقتاً  ان پر انگلی اٹھانے یا ان کی شکل و صورت کو مسخ کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ،جو اب تک ناکام و نامراد ثابت ہوئی اللہ تعالی اسی طرح شیطانی عناصر کو زیر کرتا رہے_

                    آمین یارب العالمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں