عشرہ ذو الحجہ کے فضائل

             عشرہ ذو الحجہ کے فضائل               



عشرہ ذو الحجہ کے فضائل

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کے لئے عشرہ ذو الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں_ ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے_(ترمذی،ابن ماجہ)

 
          قرآن مجید میں ہے:


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

وَ الۡفَجۡرِ ۙ﴿۱﴾ قسم ہے فجر کے وقت کی_ وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ ۙ﴿۲﴾ اور دس راتوں کی_ والفجر: فجر کا وقت دنیا کی ہر چیز میں ایک نیا انقلاب لے کر نمودار ہوتا ہے، اس لئے اس کی قسم کھائی گئی ہے، بعض مفسرین نے اس آیت سے خاص ذوالحجہ کی صبح مراد لی ہے، اور دس راتوں میں سے مراد ذو الحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے، اور اس میں عبادت کا بہت ثواب ہے_ وَّ الشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ ۙ﴿۳﴾اور جفت کی اور طاق کی _ جفت سے مراد دس ذو الحجہ کا دن اور طاق سے مراد عرفہ کا دن ہے، جو نو ذو الحجہ کو آتا ہے ان ایام کی قسم کھانے سے ان کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے_ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَسۡرِ ۚ﴿۴﴾ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو_ (کہ آخرت میں جزاء و سزا ضرور ہوگی)
یعنی جب رات رخصت ہونے لگے، ان تمام دنوں اور راتوں کا حوالہ شاید اس لئے دیا گیا ہے کہ عرب کے کافر بھی ان کو مقدس سمجھتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ تقدس ان دنوں اور راتوں میں خود سے نہیں آگیا: بلکہ اللہ نے پیدا فرمایا ہے اس لیے یہ سارے دن رات اللہ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتے ہیں، اور اس قدرت اور حکمت کا ایک مظاہرہ یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اور بد کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ فرمائے، بلکہ نیک لوگوں کو انعام دے اور برے لوگوں کو سزا، چنانچہ اسی سورت میں انہی دونوں باتوں کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا گیا ہے_ہَلۡ فِیۡ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیۡ حِجۡرٍ ؕ﴿۵﴾
ایک عقل والے کو یقین دلانے کے لیے یہ قسمیں کافی ہیں کہ نہیں؟

عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من أیام العمل الصالح فیھن احب الی اللہ من ھذہ الایام العشر فقالوا یا رسول اللہ ولا الجہاد فی سبیل اللہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا الجہاد فی سبیل اللہ الا رجل خرج بنفسہ ہمالہ فلم یرجع من ذلک بشئ_(الترمذی:٧٥٧)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "ذو الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک اعمال اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں" ، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں،سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا __

       خدا وحدہ لا شریک نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں_
خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات میں بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے__

                     تکبیر تشریق 

اللہ اکبر، اللہ اکبر، لاالہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد

     نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد بآواز بلند ایک مرتبہ مذکورہ تکبیر کہنا واجب ہے_ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں اس طرح مرد و عورت دونوں پر واجب ہے، البتہ عورت بآواز بلند تکبیر نہ کہے آہستہ سے کہے _(شامی) 

عید الاضحی کے دن مذکورہ ذیل امور مسنون ہیں:

    صبح سویرے اٹھنا ، غسل و مسواک کرنا ، پاک صاف عمدہ کپڑے جو اپنے پاس ہو پہننا، خوشبو لگانا،نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں بآواز بلند تکبیر کہنا______

تبصرے

Unknown نے کہا…
ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر ہے۔۔۔۔اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں