اسلام نے عورت کو کیا دیا؟

              اسلام نے عورت کو کیا دیا؟

از قلم: اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند



           قدرت نے کائنات عالم کی تخلیق و تعمیر میں تحسین و تزئین کا خاص خیال رکھا ہے _ سورج کی سنہری کرنیں، چاند کی دلکش چاندنی،نیلگوں آسمان کی حسین پر جگمگاتے ستاروں کی سجاوٹ، زمین میں ہرے بھرے پودوں کا فرش،رنگ برنگ کے خوشنما مہکتے پھول، بلند و بالا پہاڑوں کا طویل سلسلہ، ان پہاڑوں سے گرتے ہوئے آبشاروں کا کیف پرور منظر یہ ساری جلوہ آرائیاں اور نیرنگیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ قدرت کی جمال آرائی کی تصویر اور خالق کائنات کی حسن کاری کا بہترین مظہر،لیکن واقعہ یہ ہے کہ کائنات کے لئے قدرت کا سب سے حسین تحفہ "عورت" ہے اس کے بغیر کائنات کی جمالیاتی داستان ادھوری اور نامکمل ہے، شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے سچ کہا ہے : 
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ 
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں 
    
     عورت کسی بھی معاشرے کا جزو لاینفک ہے، خواہ وہ ماں کے روپ میں ہو، یا بیٹی کے، بیوی کی شکل میں ہو، یا بہن کی صورت میں _ دنیا میں کوئی قوم صنف نازک کو نظر انداز کرکے ترقی کی راہیں طے نہیں کر سکتی ،لیکن انسانی تاریخ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر زمانے میں حوا کی بیٹیوں کو معاشرے میں گری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،اس کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کیا جاتا ہے،اور اس کے جذبات کو پامال کیا جاتا ہے_

     عورت پر اسلام کے احسانات کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے ہمیں تاریخ کے صفحات پر نگاہ ڈالنی ہوگی،اور دیکھنا ہوگا کہ ماضی میں مختلف قوموں کے نزدیک عورت کی حیثیت کیا تھی،اور معاشرے میں اسے کیا مقام حاصل تھا؟ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام سے قبل تمام قوموں کو ایک غیر انسانی مخلوق کی حیثیت حاصل تھی، اسے کسی طرح کا کوئی بھی حق حاصل نہیں تھا،اور اگر کہیں تھا بھی تو اس کی پامالی عام بات تھی ،اس کا دامن عفت وعصمت سے محفوظ نہ تھا،اس کے مال کو مرد اپنی ملکیت سمجھتا تھا، میراث نے اس کا کوئی حصہ نہ تھا، روم میں یہ قانون تھا کہ اگر مرد عورت سے ناراض ہو تو وہ اسے دریا میں ڈبو سکتا تھا، فروخت کر سکتا تھا ، نیز شوہر کے مرنے کے بعد دوسرا نکاح کرنے کی قطعاً اجازت نہ تھی،جیسے ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں "ستی پرتھا" کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو قدیم زمانے سے رائج تھی، جو ماضی قریب تک باقی رہی، اس کے تحت اگر کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو اس کو شوہر کی میت کے ساتھ جلنے پر مجبور کردیا جاتا، اگر عورت کسی بچی کو جنم دیتی تو وہ سماج میں حقارت کی نگاہ سے دیکھی جاتی، عرب میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج معاشی بدحالی کے خوف سے قدیم زمانے سے چلا آ رہا تھا،جسے قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے : "وإذالمؤدت سئلت۔ بأیّ ذنب قتلت"(سورۃ التکویر،آیت:٨.٩) بیٹوں کا وجود تو اس لیے (ان کے نزدیک) قابل برداشت تھا کہ وہ حصول معاش میں معاون ہونگے ، مگر بیٹیوں سے توقع نہ تھی، بلکہ انہیں پال پوس کر دوسروں کے حوالے کرنا پڑتا تھا، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ قبائلی لڑائیوں میں وہ دفاع کاکام انجام نہ دے سکتی تھیں، بلکہ خود ان کی حفاظت کرنی پڑتی تھی، اگر دشمن ان کو پکڑ کر لے جاتا تو باندیاں بنالیتا ، جس کی وجہ سے رسوائی ہوتی تھی، لیکن سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ دامادی رشتہ ان کے نزدیک ایک بڑا عیب بن چکا تھا، یہ بات بڑی ناگوار تھی کہ کوئی ان کو داماد یا بہنوئی کہلائے ، لہذا ان مسلوں کا حل یہ ہے کہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جائے،کبھی تو زچگی کے وقت ہی عورت کے سامنے ایک گڑھا کھود کر رکھا جاتا تھا ، تاکہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسے گڑھے میں ڈال کر مٹی ڈال دیئے جائیں اور کبھی کچھ دنوں رکھا جاتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جا کر زندہ دفن کر دیا جاتا _
    علامہ اقبال نے اس ظالمانہ رسم کی منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے:
 
جو ہوتی تھی پیدا کسی کے گھر میں دختر تو مارے خجالت کے بے رحم مادر

زمانے کی نظروں سے خود کو بچا کر کنوئیں میں کہیں پھینک آتی تھی جاکر

  بہت سے لوگوں نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد اس سلسلے کے بڑے اندوہناک واقعات بیان کئے ہیں،جس کو پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے _
   لیکن جب اسلام کا سورج طلوع ہوا اور اس کی کرنہ عالم کے کونے کونے میں پھیل گئیں_اسلام نے صدیوں سال سے ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل کا شکار عورتوں کو عظمت و تقدس سے سرفراز کیا، اس کو عزت کے ساتھ رہنے اور جینے کا حوصلہ بخشا،عورتوں کو تحفظ فراہم کیا،اس پر ظلم و ستم کے دروازوں کو بند کیا،اولاد کی تعلیم و تربیت اور صالح معاشرے کی تشکیل میں اسے مردوں کے برابر کا ذمہ دار بنایا ، الغرض اسلام نے عورتوں کو وہ سب کچھ عطا کیا جس کی وہ مستحق تھیں_

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں