لمحۂ فکر
لـــمـــحـــۂ فــــکــــر
از: اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
کل مورخہ ٨/ ذوالقعدہ ١٤٤٢ ہجری مطابق 20/ جون 2021 بروز یکشنبہ کو تقریباً 3/سال کے بعد کھٹونہ بلاک جانا ہوا۔
جسے کچھ تأثرات کی بناپر قلمبند کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
کھٹونہ بلاک کی حالت یہ ہے کہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں اور کرپشن( بدیانتی اور خیانت) بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وہاں کی نالیاں تعفن سے بھری پڑی ہیں اور کوڑیاں صاف نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، لیکن مکھیا ان چیزوں پر توجہ نہیں دیتے، اور جب ووٹ کا وقت آتا ہے تو بہت سے جھوٹے وعدے بھی کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم آپ کے محلے میں سڑکیں تیار کر دیں گے، لیکن جب ان کو ووٹ دے دیا جاتا ہے تو وہ کام کروانا بھول جاتے ہیں اور جب دوبارہ الیکشن کا وقت آتا ہے تو وہ اس وقت صرف اور صرف سڑک پر گڑھے میں روڑے ڈال کر کہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔
اب تو ایسے بے حس نیتاؤں کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ" ان نيتاؤں سے کرسیاں چھین لو چابیاں چھین لو"___
بلاک کی حالت ناگفتہ بہ ہے، سرکاری دفاتر میں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا ، عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا ، ہسپتالوں میں علاج نہیں ملتا، تھانوں میں تحفظ نہیں ملتا اور تعلیمی اداروں میں تعلیم نہیں ملتی۔
درحقیقت یہ اللہ کا عذاب ہے کہ جیب کتروں کی لائن لگی ہوئی ہے لیکن لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قرآن ان سے کہتا ہے کہ یہ ایک احمقانہ تمنا ہے کہ کم دو اور پورہ لو جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی -
اس سے آگے ارشاد ربانی ہے "کیا انہیں گمان بھی نہیں ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ جس عظيم دن میں یہ لوگ میدان حشر میں بھیجے جائیں گے "_ان کو دوبارہ زندگی دی جائے گی، اعمال کا حساب و کتاب ہوگا " اوراس دن لوگ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اعمال کا حساب دے رہے ہوں گے" اگر انہیں اس دن کا تصور ہوتا تو یقینا وه یہ حرکتیں نہ کرتے --------------------------------------------------------------------------
تبصرے