راہ ‏خود ‏بڑھ ‏کر ‏بتاتی ‏ہے ‏نشان ‏منزل

          راہ خود بڑھ کر بتاتی ہے نشان منزل 






          ہندوستان ایک گلشن ہے جس میں مختلف قسم کے پھول کھلے ہوئے ہیں جن کی خوشبو سے یہ گلشن پوری دنیا میں مہک رہا ہے_ مختلف مذاھب کے ماننے والے ، الگ الگ نظریات کے حامل،سیاسی، ،سماجی، قومی، مذہبی اور لسانی اعتبار سے جدا جدا ذہن رکھنے والے انسان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں آزادی سے زندگی گذار رہے ہیں_
    عہد قدیم سے عصر حاضر تک پورے ہندوستان میں تہذیب و تمدن کی خوشبو، اتحاد و اتفاق کے بقا، قومی و مذہبی بیداری، محبت و اخوت، رواداری و ہم آہنگی، بلا تفریق مذہب و ملت، خدمت خلق کا جذبہ جو نظر آرہا ہے اس میں مدارس اسلامیہ کا کردار بہت اہم ہے_ عموماً پوری دنیا میں خاص کر ہمارے پیارے وطن ہندوستان میں مذہبی بیداری، اسلامی بود و باش، تحفظ شعائر اسلام کا جذبہ، اسلامی شناخت کو برقرار رکھنے کا ہنر، مفاد پرستی خود غرضی، اخلاق سوز حرکتوں کے بجائے ایک دوسرے کے لئے خیر کا جذبہ مدارس اسلامیہ کا دین ہے_
      ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کی ایک تابناک و روشن تاریخ رہی ہے_تاریخ کے جھروکوں سے ہندوستان میں مدارس کے کردار ان کے کارنامے سیکولر، غیر جانبدار ہو کر شب پہلو سے دیکھا جائے تو ہر دور میں مدارس اسلامیہ پوری ملت کی رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں_

        دور حاضر میں مدارس اسلامیہ پر کچھ سیاسی لیڈروں کی جانب سے ملک میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے_ان اسلامی اداروں کو بد نام کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، مدارس کو دہشت گردوں کا اڈہ قرار دیا جا رہا ہے_امن و سکون، ملک کے آئین کی حفاظت،صحت و تندرستی سماج کی بقاء کا درس دینے والے علماء اسلام کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے_نامساعد حالات میں ملک کے اندر و سلامتی کو برقرار رکھنے والے مذہبی قلعہ کو مسمار کرنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے_حالانکہ ناسمجھ سیاسی لیڈروں کو معلوم ہونا چاہیے جن میں صالح سوچ کی صلاحیت منعقد ہونی چاہیے، دور اندیشی کا نام و نشان مٹ چکا ہے،ترقی کے مراحل طے کرنے کا ہنر ختم ہو چکا ہے کہ جب بھی ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے_فساد و انتشار برپا کرکے ملک کی فضا خراب کیا گیا،مذہب کے خلاف آواز بلند کی گئیں_مذہبی رسومات پر انگلیاں اٹھائی گئی_سماج میں مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے زبانیں کھلیں،سماج اتحاد کو پارہ پارہ کر نے کے لئے نفرت کی آگ لگائی گئی، سماج میں عدم مساوات کا بیج بویا گیا تو ان خراب بیجوں کو زمین سے اکھاڑ پھینکنے والے، نفرت کی آگ پہ محبت کا پانی ڈالنے والے، نفرت زدہ زبان کو کاٹنے والے، خار دار انگلیوں کو توڑنے والے، تکلیف دہ آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کرنے والے، فسادیوں کے وجود کو نیست و نابود کرنے والے یہی مدارس اسلامیہ ہیں : 

 *جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھی دھڑکنیں* 
 *جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے*

    ہر دور میں رہی ہے کیونکہ جو مذہبی قلعہ ہمیشہ لوگوں کو سر بلند کرنے کا ہنر سکھاتا ہو ، جس کی تعلیم مکمل ضابطہ اخلق کی ضمانت ہو ، جس کی بنیاد میں محبت و اخوت و مساوات کی اینٹ لگائی گئی ہو ، جس کی فلک بوس میناروں سے خیر کی صدائیں بلند ہوتی ہوں اس کی اہمیت و افادیت سے کون انکار کر سکتا ہے_ ہر دور میں مدرسہ اپنے نونہالوں کو کامیاب زندگی کا تحفہ دیا ہے_
    تاریخ کے آئینہ میں دیکھا جائے تو انہی مدرسوں نے اپنے ملک میں عملی برادران مولانا جوہر علی شوکت علی علامہ فضل حق خیرآبادی مولانا مظہر الحق و دیگر مجاہد آزادی کو جنم دیا ہے_ جنہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروایا اور آپنی قوم کو ہندوستان تحفہ میں دیا جہاں آج ہر آدمی کا دل آزادی کی خوشبو سے مہک رہا ہے_
      دور حاضر میں ان مدارس کی اہمیت سے کسی صاحب عقل کو انکار نہیں مگر ترقی کے منازل طے کرنے کے لئے ہر دور میں حالات کے اعتبار سے تبدیلی ضروری ہے آج عصری تعلیم دنیاوی کامیابی کی کنجی ہے_ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے جس طرح پل کے لئے ستون، عشق کے لئے جنون ، قربانی کے لیے خون کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح دور حاضر میں کامیابی کے لئے عصری تعلیم کی ضرورت ہے_ اگر مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا مکمل انتظام و انصرام ہو جائے تو اس کی اہمیت و افادیت سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا اور اس سے مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ، مذہبی، معاشی، سیاسی، سماجی اعتبار سے مضبوط و مستحکم ہو کر اپنے قوم کی رہنمائی کر سکیں گے اور ایک بہترین قائد بن کر اپنی قائدانہ صلاحیت سے قوم کے دینی و دنیاوی مشکلات حل کرسکیں گے_

 *راہ خود بڑھ کے بتاتی ہے نشان منزل* 
 *چلنے والا بھی تو ہو کوئی گردش ایام کے* 
 *مدارس اسلامیہ جو ہمارا مذہبی قلعہ ہے ماضی، حال مستقبل* 
 *ہر دور میں ان کی ضرورت تھی، ہے رہے گی_* 
 *وہ وقت آگیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر* 
 *گہرے سمندروں میں اترنا چاہیے*

تبصرے

Unknown نے کہا…
Ma Sha Allah
گمنام نے کہا…
Ma sha Allah

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں