تلاوت قرآن قرآن و حدیث کی روشنی میں
تلاوت قرآن
قرآن وحدیث کی روشنی میں
بتاریخ 27/ رمضان المبارک 1444 ھجری مطابق 19/ اپریل 2023 بروز بدھ کو باندے پٹوری سمستی پور کی(جامع مسجد) میں آج الحمدللہ تراویح مکمل کی ہے ۔
تلاوت قرآن کے فضائل کے سلسلے میں قرآن و حدیث میں بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے_حضرات علماء نے فضائل تلاوت اور اس کے اداب کے موضوع پر مستقل کتابیں بھی تحریر فرمائی ہیں_یہاں ہم تلاوت قرآن کے چند فضائل پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_قرآن کریم کی تلاوت جن لوگوں کا معمول ہے اور جو خوش نصیب کثرت سے تلاوت کرتے ہیں اللہ تعالی نے ان کی مدح و ستائش فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:" یتلون اٰیت اللہ آناء اللیل وھم یسجدون"(وہ لوگ رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں یعنی نماز پڑھتے ہیں) سورہ فاتر میں ارشاد ہے:" ان الذین یتلون کتاب اللہ واقاموا الصلوٰۃ وانفقوا مما رزقناھم سرّا وعلانیۃ یر جون تجارۃ لن تبور" (جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت (مع العمل) کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے ان میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :" خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ" (مشکوٰۃ) (تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ) اس میں الفاظ و معنی دونوں کا سیکھنا سکھانا آگیا_
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ:" إقرءوا القرآن بلحون العرب وأصواتھا وإیاکم ولحون اھل عشق ولحون اھل الکتابین وسیجی ء بعدی قوم یرجعون بالقرآن الخ" ( مشکوٰۃ)
(قرآن کو عرب کے لہجہ اور ان کی آواز میں پڑھو اور اہل عشق (فُساق موسیقاروں) اور اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ) کے لہجوں سے بچو، میرے بعد کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو گانے اور نوحہ کے طرز پر پڑھیں گے اس حال میں ان کے دل اور ان لوگوں کے دل جن کو ان کا قرآن پڑھنا اچھا لگے گا فتنہ میں مبتلا ہوں گے_
یعنی سننے اور سنانے والوں کا مقصد صرف اور صرف ہوگا اور ان کا اثر ان کے دلوں پر ہوگا نہ عمل اس کے مطابق ہوگا_
فضائل تلاوت کے متعلق مذکورہ بالا چند احادیث تسخیر احادیث میں سے پیش کی گئی ہیں_اگر تم مومن صادق میں شوق تلاوت پیدا کرنے کے لیے صرف ایک آیت یا ایک حدیث بھی کافی تھی_یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ قرآن کی صرف تلاوت پر اکتفا کر لینا کوئی دانشمندانہ طریقہ نہیں ہے اس لیے کہ جہاں تلاوت قرآن کے فضائل بیان کئے گئے ہیں وہی ان کے معنی و مراد کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی جانب قرآن و حدیث میں بھرپور توجہ دلائی گئی ہے_
اور نزول قرآن کا مقصد بھی تدبر القرآن قرار دیا گیا ہے_ ارشاد باری ہے: کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا آیاتہ ولیتذکر اولوا الالباب ( سورہ صٓ) (یہ ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر اس واسطے نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل فہم نصیحت حاصل کریں )
حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اس وقت عوام الناس اور علماء سب میں اس باب (قرآن کے معاملہ) میں تفریط ہے_
عوام نے تو محض حرف پڑھ لینا کافی سمجھا اور اہل علم محض لغت کی تحقیق کرلی، چنانچہ تحصیل تفسیر کے وقت محض الفاظ قرآن کا حل ہوتا ہے،با قرآن کی جو اصلی غرض تھی وہ اس آیت " کتاب انزلناہ الیک الخ" میں مذکور ہے یعنی سمجھنا اور تدبر کرنا کہ اصل مقصود تنزیل (قرآن نازل کرنے سے) یہی ہے کسی کی اس پر نظر نہیں،یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کھلی باتیں ہیں لیکن وہ بعض اہل علم کو بھی نظر نہیں آتیں_( وعظ قطع التمنی)
تبصرے