ہے تیرے غم میں پورا دیار سوگوار
آئے دن کوئی نہ کوئی دنیا سے رخصت ہوتا ہے اس میں مرد بھی ہوتے ہیں عورتیں بھی، بچے بھی ہوتے ہیں جو ان بھی، عام بھی ہوتے ہیں اور خاص بھی، جاہل بھی ہوتے ہیں اور عالم بھی۔ نتیجتاً دنیا میں جو بھی آئے گا وہ ایک دن یہاں سے چلا جائے گا کسی کے لیے بھی یہاں ہمیشہ رہنا نہیں ہے سب کو فنا ہونا ہے باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے"کل شئ ھالک الا وجھه"یعنی ہر چیز ختم ہوگی سواۓ اللہ کی ذات کے۔
اللہ کے نبی نے امت کو دنیا میں رہنے کے لئے یہ سبق دیا ہے کہ "کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل"یعنی دنیا میں تم اس طرح رہو جیسا کہ ایک اجنبی آدمی رہتا ہے یا کوئ مسافر۔
ایک آدمی جب کسی اجنبی جگہ جاتا ہے تو کس طرح رہتا ہے وہی آدمی اپنے وطن میں رہتا ہے تو کس انداز سے رہتا ہے دونوں میں بہت فرق ہے، تو حدیث پاک کے الفاظ سے اور اب تک کے قراءن اور شواھد سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کا اصل وطن آخرت ہے نہ کہ دنیا، دنیا میں کچھ وقت رہتا ہے جو عمر اللہ کے پاس سے لے کر آیا ہے اتنی ہی عمر اس دنیا میں رہتا ہے۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
دنیا میں بڑے بڑے لوگ آئے اور اپنا علم و ہنر اور دم خم دکھا کر چلے گئے آج وہ منوں مٹی میں دب کر رہ گئے ہیں۔
قیصر اور سکندر وجم چل بسے
ژال و سہراب اور رستم چل بسے
کیسے کیسے شیر وضیغم چل بسے
سب دکھا کر اپنا دم خم چل بسے
(کل نفس ذائقۃ الموت) ہر آنے والے کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔موت سےکسی کو مفر نہیں آدمی سب کا انکار کر سکتا ہے لیکن موت کا نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ اللہ تک کا انکار کر نے والے ملحدو زندیق قسم کے لوگ بھی دنیا میں آۓ اور ختم ہو گئے ــ
اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے موت کا ایک وقت مقرر کیا ہے۔
موت اسی وقت آکر رہے گی "یدرک کم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ"
قیمتی سے قیمتی انسان بھی اس فانی دنیا سے رخصت ہو کر چلا جاتا ہے، انہی قیمتی انسانوں میں سے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی تھے۔
ذرائع کے مطابق ٤/ شعبان المعظم ١٤٤٢ ھجری مطابق 18/مارچ ٢٠٢١ ء بروز جمعرات کو مولانا بالکل چست درست تھے اور اسی عالم میں انہوں نے IGMC میں جاکر کرونا ویکسین کا پہلا ڈوز لیا تھا۔ویکسین لینے کے بعد آپ کی طبیعت بگڑنے لگی تھی اور پھر تین روز قبل انہیں پارس اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانسیں لیں۔
میرا سوال حکومت ہند سے یہ ہے کہ آخر ویکسینیشن کے باوجود وہ کوڈ19 کے شکار کیسے ہوگئے اس پر ICMR کو وضاحت پیش کرنی چاہئے ۔
اگر قومی سطح کے لیڈران کے ساتھ ویکسینیشن کے نام پر اس طرح کا کھلواڑ ہورہا ہے تو پھر عوام الناس کا کیا حال ہوگا۔ ہندوستان میں ایک بڑی تعداد کرونا ویکسینیشن پر جن شبہات کا اظہار کررہی ہے اس طرح کے واقعات ان شبہات کو تقویت پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں ۔
متنبی نے کسی زمانے میں کہا تھا
"اعیی دواءالموت کل طبیب " کہ موت کی دوا نے ہر طبیب کو عاجز کر رکھا ہے
"کل من علیھا فان ،ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلل والاکرام"
سب کے سب ہیں رہ رو کوۓ فنا
جا رہا ہے ہر کوئی سوئے فنا
بہہ رہی ہے ہر طرف جوۓ فنا
آتی ہے ہر چیز سے بوۓ فنا
بہرحال وقت موعود آن پہنچا اور آپ ٢٠/شعبان المعظم ١٤٤٢ھ مطابق ٣/اپریل ٢٠٢١ ءکو اس دار فانی سے اس عالم جاودانی کی طرف رحلت فرماگئے۔"انا للہ وانا الیہ راجعون"وانا انشاء اللہ بکم لا حقون نسأل اللہ لنا ولکم العافیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے