قرآن کریم کی ٢٦ آیات وسیم رضوی کا مطالبہ یا مغالطہ
قرآن کریم کی ٢٦ آیات وسیم رضوی کا مطالبہ یا مغالطہ
ابھی کچھ دنوں سے قرآن کی 26 آیتوں کی ویڈیوز بہت ہی زیادہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے
آخر اس کی وجوہات کیا ہے ۔۔۔اور کیوں ہو رہا ہے یہ سب؟
اور وسیم رضوی کون ہے؟ وہ ٢٦ آیتیں کونسی ہیں؟ ان کا ترجمہ اور تفسیر کیا ہے؟
آئیے اس کو ذرا تفصیل سے جانتے ہیں:
کون ہے وسیم رضوی ، جس نے قرآن کریم کی 26 آیات ہٹانے کا کیا ہے مطالبہ ؟
شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے قرآن کریم کی آیات ہٹوانے کیلئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے ۔ اس کی دلیل ہے کہ یہ آیات بعد میں جوڑی گئی ہیں۔ اس نے کہا کہ قرآن کریم کی یہ سب آیتیں دہشت گردی کو فروغ دینے والی ہیں انہیں ہٹایا جانا چاہئے ۔ تاکہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مسلمان نام نہ جڑیں ۔ اس لئے وسیم رضوی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تاکہ ان آیات کو حذف کیا جاسکے:
(١)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
(اس کے برخلاف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا
(٢)اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا
بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یوں ہی) جنت میں داخل ہوجاؤگے ؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے جہاد کرنے والوں کو
(٣)لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھے رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔
(٤) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو (١) اور اس کے راستے میں جہاد کرو (٢) امید ہے کہ تمہیں فلاح حاصل ہوگی۔
١: وسیلہ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔
٢: جہاد کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں، قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں ؛ لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی جہاد کہا جاتا ہے، یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
(٥)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے
(٦) وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا
اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔
(٧)وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ
اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔
(٨) اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ
بھلا کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ جہاد کرتے ہیں.
(٩)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے۔
(١٠)قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ
(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان۔
(١١) اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
(جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔
(١٢) لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ
جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ اپنے مال و جان سے جہاد نہ کرنے کے لیے تم سے اجازت نہیں مانگتے۔
(١٣) یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ
اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو، اور ان پر سختی کرو۔
جہاد کے اصل معنی جدوجہد اور محنت و کوشش کے ہیں، دین کی حفاظت اور دفاع کے لئے یہ کوشش مسلح لڑائی کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے اور زبانی دعوت و تبلیغ اور بحث و مباحثہ کی صورت میں بھی، کھلے کافروں کے ساتھ۔ یہاں جہاد کے پہلے معنی مراد ہیں، اور منافقین کے ساتھ جہاد کے دوسرے معنی مقصود ہیں ؛ چونکہ منافقین زبان سے اسلام لانے کا اظہار کرتے تھے، اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی شرارتوں کے باوجود یہ حکم دیا کہ دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا ہی معاملہ کیا جائے، اس لئے ان کے ساتھ جہاد کا مطلب زبانی جہاد ہے، اور ان پر سختی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اول تو گفتگو میں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے، دوسرے اگر ان سے کوئی قابل سزا جرم سرزد ہو تو انہیں معافی نہ دی جائے۔
(١٤) فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
جن لوگوں کو (غزوہ تبوک سے) پیچھے رہنے دیا گیا تھا، وہ رسول اللہ کے جانے کے بعد اپنے (گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بڑے خوش ہوئے، اور ان کو یہ بات ناگوار تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کریں۔
(١٥) وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ
اور جب کوئی سورت یہ حکم لے کر نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ، اور اس کے رسول کی رفاقت میں جہاد کرو۔
(١٦) لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ
لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، انہوں نے اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے،
(١٧)ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا
پھر یقین جانو تمہارے پروردگار کا معاملہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے فتنے میں مبتلا ہونے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور صبر سے کام لیا تو ان باتوں کے بعد تمہارا پروردگار یقینا بہت بخشنے والا ہے۔
اس آیت میں فتنے میں مبتلا ہونے سے ان صحابہ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جو مکہ مکرمہ میں کافروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ پہلے چونکہ کافروں کے برے انجام کا ذکر تھا تو اس آیت میں نیک مسلمانوں کا اجر بھی بیان فرما دیا گیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے یہاں فتنے میں مبتلا ہونے کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ پہلے کفر میں مبتلا ہوگئے بعد میں توبہ کی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پہلے سے جن مرتد لوگوں کا ذکر چلا آرہا ہے۔ انہی کے بارے میں اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اب بھی اگر وہ توبہ کر کے ہجرت کریں اور جہاد کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہ معاف فرما دیں۔
(١٨) وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ هُوَ اجْتَبٰكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ
اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں (اپنے دین کے لیے) منتخب کرلیا ہے
(١٩) فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا
لہذا (اے پیغمبر) تم ان کافروں کا کہنا نہ مانو، اور اس قرآن کے ذریعے ان کے خلاف پوری قوت سے جدوجہد کرو۔
(٢٠) وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ
اور جو شخص بھی ہمارے راستے میں محنت اٹھاتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے محنت اٹھاتا ہے۔ (2) یقینا اللہ تمام دنیا جہان کے لوگوں سے بےنیاز ہے۔
2: اس میں دین کے راستے میں کی ہوئی ہر محنت داخل ہے، چاہے وہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی محنت ہو یا تبلیغ و دعوت کی محنت یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی محنت۔
(٢١) وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، (۳) اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
٣: یہ ان لوگوں کے لئے بڑی عظیم خوشخبری ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین پر خود چلنے اور دوسروں کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک انسان اس راستے میں کوشش جاری رکھے اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جائے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مدد فرما کر ضرور منزل تک پہنچادیں گے، لہذا راستے کی مشکلات سے ہار مان کر بیٹھنے کے بجائے نئے عزم وہمت کے ساتھ یہ کوشش ہمیشہ جاری رہنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی مکمل توفیق عطا فرمائیں، امین.
(٢٢) وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ
اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں۔
(٢٣) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
ایمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔
(٢٤) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ
اے ایمان والو ! اگر تم میرے راستے میں جہاد کرنے کی خاطر اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (گھروں سے) نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ایسا دوست مت بناؤ
(۲۵) تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ
(وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔
(٢٦)یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ
اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو (٤) اور ان کے مقابلے میں سخت ہوجاؤ۔
٤: جہاد کے معنی در اصل جد و جہد کے ہیں۔ اس میں پر امن جد و جہد بھی داخل ہے جس کے ذریعے کسی کو دین کی دعوت دی جائے، اور دین کی نشر و اشاعت اور اس کی تنفیذ کے لیے کام کیا جائے، اور مسلح جد و جہد بھی داخل ہے جس کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کیا جائے، مگر یہ مسلح جد و جہد کافروں ہی کے مقابلے میں ہوسکتی ہے، منافق چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، اس لیے دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا معاملہ کیا جاتا ہے، اور عام حالات میں ان سے لڑائی نہیں کی جاتی، الا یہ کہ وہ بغاوت پر اتر آئیں۔
ان سب آیتوں کا ترجمہ اور تفسیر میں نے آپ کے سامنے پیش کیا۔
جب میں نے ان سب آیات و کی تفسیر دیکھا تو پتہ چلا کہ وسیم رضوی صاحب نے ان سب آیتوں کا توجہ سے مطالعہ نہیں کیا ۔
اگر وہ توجہ سے مطالعہ کرتے تو ان کو یہ آیتیں ہٹانے کی نوبت پیش نہ آتی اور نہ ان کو اپنے خانہ بدوش سے جدا نہ ہونا پڑتا ۔۔۔۔۔
اس لئے کہ قرآن جب نازل ہوا تو حالات کے اعتبار سے نازل ہوا ۔۔
اور وسیم رضوی صاحب نے تو ادھوری ادھوری آیتیں پیش کی ہیں جب وہ مکمل آیت پر غور کرتے تب ان کو پتہ چلتا کہ یہ آتنگواد کو بڑھاوا دے رہا ہے یا ان کو روک رہا ہے ۔۔۔۔۔
مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی والوں کی یہ سب سازشیں ہیں اور پیسوں کی لالچ دے کر وسیم رضوی کے ایمان کو خریدا ہے ۔۔۔
تبصرے