آہ - - - اب بھی وقت ہے کئی عائشہ بچانے کو

آہ - - - اب بھی وقت ہے کئی عائشہ بچانے کو









قارئین کرام!  یقیناً دور حاضر میں ازدواجی زندگی سے متعلق نہایت ہی فتنہ انگیز، زہر آلود فعل ملعون (جہیز) کی ڈیمانڈ نے نہ صرف معاشرے میں بسے جانے والے متوسط اور نیچ طبقے کے جذبات  کو ٹھیس پہونچا کر مجروح کیا ہے،بلکہ اولا انسانی غیرت وحمیت، کے تمام حدود کا جنازہ نکال کر صنف نازک ( ہماری ماؤں اور بہنوں) کو احساس کمتری کا شکار کرکے ایک ایسے غلط رسم و رواج کے پیچ وخم میں الجھا دیا گیا ہے، جس کے گراں دوش کا نہ تو وہ بذات خود متحمل بن پاتی ہے اور نہ ہی اس بیٹی کا مجبور باپ،،،........... 
    جو بڑے ہی محنت وکدوکاوش اور پوری جاں بازی و جانثاری سے ایک معصوم سی گڑیا رانی (سونی، مونی رانی وغیرہ) کی پرورش کرکے ایک ایسی جوانی کے شباب پر دیکھتا ہے، جس سے وہ مشفق ومربى باپ اس بچی کے روبرو ہونے سے اجتناب کرتے ہوئے اس تخیلات میں محو غم ہوجاتا ہے کہ اب اپنی جوان بیٹی کو ازدواجی زندگی کا رپ کیسے دوں؟ ،،،، ،،،کہاں دوں؟ کون ہوگا جو اسلامی طریقے پر میری چاند سی بیٹی کے حقوق ادا کریں گے؟ نہ جانے اس طرح بے شمار سوالات والدین کے ذہنوں میں گردش کررہے ہوتے ہیں،،
مگر جب والدین باہمی مشورے ورائے سے اپنی بچی کے مستقبل کی تابناکی کے لئے اپنی حیثیت، وسعت اور اپنی بساط کے مطابق کسی فیصلے پر آپہونچتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی زمانے رسم وراج کو اپنا کر:جو کہ نہایت ہی غلط ہے :اس پیاری سی بیٹی کو الوداع کہتا ہے پھر اس کے جواب میں دولہا والوں کی جانب سے متأسف ومتحیر منفی خبر آتی ہے، یا وہ مظلوم بیٹی خود اپنے اوپر کئے گئے استحصال کی دلخراش داستاں سناتی ہے تو ذرا سوچیں!! 
کہ اس بیٹی کے والدین، اس کے دیگر بھائی بہنوں پر کیا گزرتا ہوگا؟ کس درد و ألم اور دلوں میں ٹیس رکھ کر اس معصوم سی کچی کلی کا ہاتھ ایک ایسے انجان شخص کے حوالے کرتا ہے جس سے وہ اب تک ناآشنا تھا، جو کہ شرعی طور پر انسانی توالد و تناسل کا سلسلہ روز اول سے یہی ضابطۂ حیات رہا ہے ہے کہ انسان دائرہ اسلام میں رہ کر سماجی ومعاشرتی زندگی کو بہتر کرے، اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے جبکہ سماج ومعاشرے کو فروغ دینے والے عائلی مسائل بہتر سے بہتر ہوں، معاشرے میں نکاح آسان ہو، ملعون جہیز کا ہر طریقے سے سد باب ہو، اہل اسلام کے سربراہ، قائد ملت، سرآوردہ اور سرغنہ قسم کے لوگ بر سرِ میدان میں آکر اس جان لیوا اور زناکاری وبےحیائیوں کو فروغ دینے والا فعل مذموم جہیز کے ڈیمانڈ کا بہر صورت رد عمل کریں، چاہے وہ کسی بھی نقطہ نظر، نظریہ توازن، فکری سوچ اور حکمت عملی کے پیش نظر ہو، کیوں کہ اگر المیہ ایسا ہی رہا تو یقیناً ازدواجی مسائل سے تنگ آکر ایک نہیں اور کتنی عائشہ دین سے ناخواندگی کی تئیں خود کشی کی شکل میں دوامی زندگی کو ترجیح دیں گی، یہ بھی جان لیں یہ تو ایک ایسا معاملہ تھا جو منظر عام پر آنے کی وجہ سے انسانیت جھنجھوڑ اٹھی، ورنہ اگر دیکھا جائے تو أن گنت تعداد میں اس طرح کے مسائل درپیش ہیں جو جہیز کی ڈیمانڈ نہ پوری کرنے کی وجہ سے عمر دراز ہو کر گھروں میں بیٹھیں ہیں، یا پھر بعد نکاح بھی بے سرو سامانی کے ساتھ اپنی میکے بیٹھیں ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں اور جو اپنی زندگی کو ایک تلخی، کا نام دیکر گھونٹ گھونٹ کر جی رہی ہیں،،،،،،،
 
  تو دوستو آپ اور ہم ہی اندازہ لگائیں کہ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ اگر ہم ہیں تو اس کے إزالہ کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے یہی کہ بس چند الفاظ کی شکل دیکر زبانی یا تحریری طور پر افسردگی کا اظہار کریں بس؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟


نوٹ! اپنی رائے ضرور دیں!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں