ویلنٹائن ڈے (یومِ عاشقاں) کی تباہی
ویلنٹائن ڈے (یوم عاشقاں) کی تباہی
اسعد اقبال یکہتوی
دو سال قبل تک احقر کو ویلنٹائن ڈے کے بارے میں بالکل بھی جانکاری نہیں تھی؛ کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہے؟ ویلنٹائن ڈے کے معنیٰ کیا ہیں؟ بندۂ ناچیز نے حتی المقدور کوشش کی کہ ویلنٹائن ڈے کے معنی دریافت کرے، لیکن فی الفورکہیں سے کوئی معنی معلوم نہ ہو سکا، بعد میں پتہ چلا کہ اسے اردو میں *یوم عاشقاں* کہا جاتا ہے،
ظاہر ہے کہ یہ ایک تعبیر ہے، اصل ترجمہ نہیں۔ البتہ جب میں نے اپنے دوستوں سے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ رومن حکومت میں تیسری صدی میں ایک راجہ تھا جس کا نام Claudius تھا۔
وہ کہتے تھے " کہ شادی کرنے سے شکتی اور بدی ختم ہو جاتی ہے" اسی وجہ سے انہوں نے اپنی پوری سلطنت میں یہ قانون نافذ کر دیا کہ آج سے کوئی شادی نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔
تو سینٹ ویلنٹائن نے اس کے اس قانوں کی مخالفت کی اور کئی سینکوں کی شادی بھی کروائی، جب اس کی اطلاع بادشاہ کو ہوئی تو اس نے سینٹ ویلنٹائن کو قید خانہ میں ڈالوا دیا۔
وہاں جیلر سے ملاقات ہوئی، جیلر اپنی نابینا بیٹی کے بارے میں اس کو بتایا ، سینٹ ویلنٹائن اس لڑکی کیلئے خوب دعائیں کی، جس کی بدولت اس کی بینائی لوٹ آئی۔ جب وہ بینا ہوگئی تو لڑکی کے دل میں اس سے ملنے کی خواہش ہوئی۔
وہ جیل خانہ جیسے ہی پہنچی پہلی ہی نظر میں وہ زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا۔
آخر اسے اسی جرم کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی۔
پھانسی سے پہلے اپنی معشوقہ کو الوداعی خط لکھا جس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا form your valentine day چونکہ یہ واقعہ 14/فروری279ء کو پیش آیا تھا۔
اسی وجہ سے آج تک 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے ہرجگہ منایا جاتا ہے ، بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس دن اگر کوئی مرد کسی عورت کو چھُولے یا اس سے محبت کا اظہار کرے تو وہ عورت اس کو منع نہیں کرسکتی اسی لیے ہمارے نوجوان اسی دن اپنی معشوقاؤں سے اظہارمحبت کرتے ہی۔
یوں تو یہودی و نصاری نے اسلام کو مٹانے کی انتھک کوششیں صرف کیں، عورتیں: جو ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہی ہیں وہ بھی ویلنٹائن ڈے کی نحوست ہے؛ لہذا ان کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
اس لیے مسلمان ماؤں اور بہنوں کو چاہیے کہ غیروں کے ایسے مکر و فریب میں نہ آئیں اور شریعت اسلامیہ کو اپنے سینے سے لگائیں۔
تبصرے