مدارس اسلامیہ مسلمانوں کی عزت و آبرو ہیں ‏

مدارس اسلامیہ مسلمانوں کی عزت وآبرو ہیں






            یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ۔۔مدارس اسلامیہ نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں اور اس کی اقدار کے تحفظ میں قابل قدر کلیدی رول ادا کیا ہے_برطانوی دور اقتدار میں ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے تہذیبی تشخیصی کی بحالی۔مدارس اسلامیہ ہی کی مرہون منت ہے_جب سیاسی و معاشی قوت سے محروم اس ملت کو فکر و تہذیبی یلغار کا سامنا تھاتو ایسے حالات میں مدارس اسلامیہ نے پاسبان کا فریضہ انجام دیا ہے_یہ مدارس اسلامیہ کیا ہندوستانی مسلمانوں دونوں کی عزت و آبرو ہیں_ان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن جدوجہد کی ضرورت ہے_مدارس اسلامیہ دین کے وہ مضبوط اور مستحکم قلعے ہیں جہاں شجرہ روحانیت کی آبیاری ہوتی ہے جہاں ذہنوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ ہوتا ہے_یہ انسانیت سازی کی فیکٹریاں اور تہذیب و ثقافت کے منبع ہیں بقول مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ جب ہندوستان میں حکومت مغلیہ کا چراغ گل ہو گیا  اور مسلمانوں کا سیاسی قلعہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو باغ نظر اور صاحب فراست علماء نے جابجا اسلام کی شریعت و تہذیب کے قلعے قائم کر دیئے انہیں قلعوں کا نام مدارس اسلامیہ ہے اور آج اسلامی شریعت و تہذیب ان ہی قلعوں میں پناہ گزیں ہے_
     آج ہندوستانی مسلمان اپنی تاریخ کے نہایت نازک دور سے گزر رہے ہیں ان کی زیست سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ خطرہ ان کے دین و امان اور اسلامی تشخیص کو ہے ان حالات میں امید کا سہارا پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے چھوٹے بڑے دینی مکاتب اور عربی مدارس ہیں اس بات سے کسی صاحب عقل و بصیرت کو انکار نہیں کہ یہی مدارس ہیں جہاں اس کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور یہیں سے اس کی خصوصیات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی ہے یہ اہل مدارس موجودہ ہندوستان میں نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے تعلیمی مشاغل میں مصروف ہیں_ کاروبار اور سیاست سے دور ملک کو اچھے شہری، با اخلاق انسان مہیا کرنے میں لگے ہوئے ہیں_ان مدارس میں طلباء کو دینی تعلیم، اخوت و بھائی چارگی، حب الوطنی اور امن و سلامتی کی تعلیم دی جاتی ہے یہاں پڑھا جانے والا نصاب میں کوئی بھی مضمون ایسا نہیں جس سے نفرت پھیلتی ہو یا کسی کے مذہبی جزبات کو ٹھیس پہنچتی ہو بلکہ یہاں کا نصاب احترام، پڑوسیوں کے ساتھ رواداری اور عہد کی پاسداری کی تلقین کرتا ہے یہاں ملک کے قوا نین اور اسباب کے محافظ بنے کی تعلیم دی جاتی ہے اور ہر وہ طریقہ جس سے انتشار ہوتا ہو اور انسان کی انسانیت پر دھبہ لگتا ہو ان کی مذمت کی جاتی ہے ملک کی خدمت اور امن شہریوں کو تیار کرنے، اکرام انسانیت کا درس دینے اور علمی نمونہ پیش کرنے میں مدارس اسلامیہ کی خدمات بالکل نمایاں ہیں۔۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ دینی مدارس ہمارے ایمان و شریعت ، قرآن و حدیث اور فقہ کے قلعے ہیں انہیں مدارس کی چاردیواری میں دین کے مبلغ پرورش پاتے ہیں انہیں مدارس کے چشمہ فیض سے اپنے سینوں کو منور کر کے گاؤں گاؤں اور بستی بستی کی سنگلاخ زمینوں کی آبیاری کرتے ہیں اس لیے ان مدارس کی پاسبانی ہمارا فرض ہے ان مدارس سے نکلے ہوئے عالم دین اپنے محدود وسائل میں رہ کر معمولی رقم پر کام کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرتے ہیں_ان مدارس میں نیکی کرنے اور برائیوں کو ختم کرنے کا سبق سکھایا جاتا ہے ان مدارس میں تو صرف انسانیت سکھائی جاتی ہے_
   اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو ہماری مسجد ویران ہو جاتی اذان دینے والا نہ ہوتا اور جنازہ پڑھانے کے لئے بھی کوئی نہیں ملتا یہ کتنا بڑا المیہ ہوتا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے ڈاکٹر یونس بلگرامی نے مدارس کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے" مدارس سے بڑھ کر دنیا کا کونسا متحرک و مصروف ادارہ ہے جس کا سراکابر نبوت سے ملا ہوا ہے اور جو نبوت کے چشمہ سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے اگر مدرسہ اپنا کام چھوڑ دیں تو زندگی کی کھیتیاں سوکھ کر رہ جائیں"
    ہندوستان میں بسنے والے ہندو اور مسلمان کو فخر کرنا چاہیے کہ انہیں مدارس کے فیض یافتہ فرزندوں نے بیرون ممالک میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ ایسی ایسی برگزیدہ شخصیات گذری ہیں جو ان ہی مدارس کی چاردیواری سے نکل کر ملک کے علاوہ بیرون ممالک میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوا چکی ہیں_
جب جب ملت کسی آزمائش سے دو چار ہوئی ہے سخت حالات سے گذری ہے کشمکشوں کا سامنا کیا ہے _ اسلام دشمن طاقتوں کا دشمنانہ سرگرمیوں کا ہدف بنی ہے تب تک ان ہی مدارس کے تربیت یافتہ ٹیم میدان عمل میں اتری ہے اور ہر مرحلہ پر صبرو استقلال،استقامت کا جو ثبوت ان گروہ علماء نے پیش کیا ہے نہ تو اسے جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ اس سے آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں_ جب تک یہ گروہ اپنی اصلی شکل و صورت میں موجود رہے گا تب تک کرہ ارض سے اسلام کا نام مٹایا اور کھرچا نہیں جا سکے گا_
  پورے ہندوستان کو یہ علمی و تاریخی حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنے علمی و تعلیمی اداروں سے پوری دنیا میں علم کی روشنی پھیلائی ہے_ انصاف پسند مؤرخین اور وطن میں بسنے والے ہر خاص و عام یہاں تک کہ غیر مسلم برادران وطن جو سنجیدہ دماغ رکھتے ہیں ان کو یہ احساس ہی نہیں بلکہ اعتراف بھی ہے کہ ان مدارس نے اس ملک کو وحدت و مرکزیت بخشی ان کے علماء نے ملوک و سلاطین کو عدل و انصاف کا پابند بنائے رکھا________

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں