خوشیوں کا منبع تلاش کیجئے
خوشیوں کا منبع تلاش کیجئے
زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے،ذہنوں کو دباؤ سے آزاد کرانے کے لئے اور مکمل خوشی سے اپنی زندگی کو نہار کرنہال کرنے کے لئے لوگ چھٹیوں کی شکل میں فرصت کے چند لمحات تلاش کرتے ہیں_اور اس کے لئے بعض افراد اپنے پسندیدہ شہروں کا سفر کرتے ہیں تو کچھ لوگ سیاحتی مقامات کے لیے عازم سفر ہوتے ہیں،ایک طبقہ ساحل سمندر کا انتخاب کرتا ہے تو دوسرا طبقہ بڑے بڑے شاپنگ مالوں میں اپنی پسندیدہ چیزوں کی خریداری کا منصوبہ بناتا ہے_بہرحال چھٹی منانے کی جو شکل بھی ہو در پردہ سب کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ خوشی اور سکون کی تلاش_
چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوشی حاصل کرنے کے حوالے سے ہمیں چند بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس دنیا کی کوئی بھی چیز مستقل،لازوال اور یقینی نہیں ہے_چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص خوابوں کو سجائے چھٹی گزارنے کے لئے سفر پر روانہ ہوتا ہے لیکن وہ سفر اس کے لیے ناموافق حالات موسم اور جودات کی وجہ سے کبھی ایک ڈراؤنا خواب بھی بن جاتا ہے_اگر کسی کی چھٹی خوشگوار گزر بھی جائے تو چھٹی ختم ہوتے ہیں صرف یادوں کے کچھ دھندلے نقوش باقی رہ جاتے ہیں اور خوشیاں ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں_یہی وجہ ہے کہ پھر سے خوشی حاصل کرنے کے لیے ایک چھٹی کے بعد دوسری چھٹی کا پلان بنایا جاتا ہے_
مذکورہ حقیقت کے سامنے آنے کے بعد کوئی آپ سے اگر یہ کہے کہ آپ اپنا ہر دن چھٹیوں کے دن کی طرح گزار سکتے ہیں کہ جس طرح چھٹیوں میں خوشی حاصل ہوتی ہے،اسی طرح آپ کو ہر دن خوشی مل سکتی ہے تو غالبا آپ یہ خیال کریں گے کہ یہ کوئی مذاق ہے_نہیں یہ مذاق نہیں بلکہ سچائی ہے مزید برآں ہر دن کی اس خوشی کے لئے آپ کو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا،لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے لئے آپ کو پہلے خوشی کے منبع کو تلاش کرنا ہوگا_مذہب کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خوشی کا وہ منبع اللہ تعالی کی ذات اقدس ہے،جس ذات سے اپنے دل کو وابستہ کرکے ہم حقیقی اور دائمی خوشی حاصل کر سکتے ہیں_
یاد رکھئے کہ اللہ تبارک و تعالی کے علاوہ ہر وہ چیز جس سے ہم اپنے دل کے تار کو جوڑتے ہیں یا تو وہ چیز ہم سے جدا ہو جائے گی یا ہم خود اس سے جدا ہو جائیں گے_اس لئے اللہ کی بارگاہ ہی وہ بارگاہ ہے کہ اگر ہم صحیح معنوں میں وہاں سے وابستہ ہو گئے تو خوشیوں کے اس نا پیدا کناراور اس کی وسعتوں میں پہنچ جائیں گے جہاں سے دنیا کی ہر خوشی جس کا ہم مزہ لیتے ہیں،ایک حقیر اور غیر اہم چیز معلوم ہوگی_
مشہور بزرگ ابراھیم ابن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کبھی ایک سلطنت کے بادشاہ ہوا کرتے تھے اور ایک پر آسائش زندگی گزارتے تھے_انہوں نے اپنی مرضی سے دنیا کی چکا چوند سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اپنی بادشاہت سے دستبردار ہوگئے تا کہ اللہ تبارک و تعالی سے لو لگائیں_ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ابراہیم ابن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے خشک روٹی تناول فرمایا اور الحمدللہ پڑھ کر اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کیا،پھر چلو بھر کر ایک ندی سے پانی پیا اور دوبارہ الحمداللہ پڑھ کر اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کیا_اس طرح کی روکھی سوکھی کھانے کے بعد،جسکا حلق سے نیچے اتارنا لوگوں کے لئے مشکل ہوتا ہے،ابراہیم ابن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر بادشاہوں اور شہزادوں کو وہ آرام اور خوشی معلوم ہوجائے جس سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ پوری زندگی ہم سے اس خوشی و آرام کو چھیننے کے لئے تلواروں سے لڑیں گے_یہ سن کر ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید ابراہیم ابن بشار نے کہاکہ(اس آرام و خوشی کے بجائے) لوگ دنیاوی آرام و آسائش کی طرف بھاگتے ہیں اور یہی وجہ ہے جہاں وہ دھوکا کھا جاتے ہیں_ (حلیتہ الاولیاء)
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ زیر نظر مضمون کا مقصد لوگوں کو چھٹیاں گزارنے سے روکنا،دنیا سے بلاوجہ دوری اختیار کرنے پر آمادہ کرنا یا جائز خوشیوں سے روکنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ ہم جہاں بھی رہیں،جہاں بھی جائیں،جس حال میں بھی رہیں،جو بھی کھائیں ہمہ وقت اللہ تبارک و تعالی کی یاد اور خوشنودی ہمارے ذہنوں میں رہے کیونکہ اس کے بعد ہمارے تمام اعمال عبادت بن جائیں گے جو ہمارے لئے دوامی خوشی کا سبب بنیں گے_اس بات کو ایک مثال سے ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں_تصور کیجئے کہ ایک شخص ہر دن گھنٹوں ایک لائن میں کھڑا ہوتا ہے تاکہ ایک بالٹی گدلا پانی اسے مل جائے اور پانی ملنے کے بعد وہ شخص اپنی حصولیابی پر خوش بھی ہوجاتا ہے_ ایسے شخص کے لیے ہمارا مشورہ کیا ہوگا_یقینا ہم اس سے یہی کہیں گے کہ ایک بالٹی گدلے پانی کے لیے گھنٹوں لائن میں لگنے کے بجائے، پانی جہاں سے آتا ہے اس منبع اور جگہ کو تلاش کریں کیونکہ اگر وہ اس جگہ کو تلاش کرلیتا ہے تو وہ نہ صرف یہ کہ صاف پانی پائے گا بلکہ وافر مقدار میں پانی بھی ملے گا_بی ای ای ہیں اسی طرح سے نہ مکمل خوشی اور ناپائدار آرام جو دنیا پیش کرتی ہے،اس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ہمیں خوشی کے اس منبع کو تلاش کرنا چاہیے جہاں سے بے شمار اور لازوال خوشی ملتی ہے اور وہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اور ان کی خوشنودی________
اللہ ہمیں اپنی رضا نصیب فرمائے اور دل کو ایسی خوشی نصیب فرمائے جس سے ہمارا ہر دن خوشیوں کا استعارا بن جائے ! آمین یا رب العالمین
تبصرے