آج ہی کے دن ‏(١٥/دسمبر)

         آج ہی کے دن (١٥/دسمبر)


  اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند 





         ١٥/دسمبر ٢٠١٩ء کی بات ہے کہ جامعہ ملیہ کے طلباء پر ہوئے تشدد کے بعد سے دہلی نوئیڈا کو جوڑنے والی قومی شاہرہ پر شاہین باغ کے علاقے میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ کی خواتین دھرنا پر بیٹھی تھیں_ہڈیوں تک گھس جانے والے ٹھنڈ میں سیکڑوں خواتین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھی تھیں، ان خواتین میں کچھ ایسی بھی تھیں جو نعرے لگانے اور جوشیلی تقریروں کے درمیان تالیاں بجانے کے ساتھ ساتھ اپنی یک سالہ بچی کو بھی سنبھال رہی تھیں_یہ پوچنے پر کہ بچے کی دیکھ بھال کرنے والا گھر پر کوئی اور نہیں ہےکیا تو انہوں نے کہا کہ میرے شوہر،بھائی وغیرہ سب کام پر چلے جاتے ہیں اور میں دھرنے پر چلی آتی ہوں،اب دھرنا استھل ہی گھر جیسا ہوگیا ہے_ ہم اپنے گھر کو ہی بچانے کے لئے دھرنے پر بیٹھے ہیں_خواتین کا کہنا تھا کہ ہم گھر سے ہی کھانا لاتی ہوں اور یہیں سب مل جل کر کھاتے ہیں_ حالانکہ ان دنوں سردی بھی کچھ زیادہ بڑھ رہی تھی پھر بھی وہاں جانا ہم لوگوں کی زندگی کا سوال تھا_کڑاکے کی ٹھنڈ میں مظاہرہ کرنا بھی بڑے حوصلے کی بات ہے_

      



      شاہین باغ کی خواتین اپنی روزمرہ کی زندگی چھوڑ کر دھرنے کا حصہ بنی تھی_ ان کا حوصلہ بھی جامعہ ملیہ کے طلباء سے کم نہیں تھا شدید ٹھنڈ کے باوجود وہ دھرنے پر بیٹھی تھیں خاص بات تو یہ ہے کہ خواتین اپنے گھر سے کچھ نہ کچھ لے کر آتی تھی اس میں دری، گدے، رضائی، کمبل اور چادر وغیرہ شامل تھی_ خواتین گھروں سے چائے بنا کر بھی لاتی تھی کہ آپس میں مل بانٹ کر ل پئیں گے_____

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں