قرآن کا اعجاز
قــــــــرآن کــــــــا اعــــــــجـــــــــاز
قارئین کرام:
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فأتوا بسورۃ من مثلہ وادعو شہدائکم من دون اللہ ان کنتم صادقین (البقرہ:٢٣)
"یعنی اگر تمہیں شک ہے اس میں جو ہم نے اتارا ہے اپنے بندہ پر تو لے آؤ ایک سورہ اس کی مانند اور پکارو اللہ کے سوا اپنے گواہوں کو اگر تم سچے ہو " دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے: قل لئن اجتمعت الانسان والجن علی أن یاتوا بمثل ھذالقرآن لایأتون بمثلہ ولو ان بعضھم لبعض ظھیرا (سورہ بنی اسرائیل:٨٨)
یعنی کہدو اگر تمام انسان اور جن قرآن کے مثل لانے کے لیے متحد ہو جائیں تو بھی وہ اس کے مثل نہیں لاسکتے ہیں چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہوں_
قرآن نے مختلف مقامات پر چیلنج دیا ہے کہ اس جیسی ایک سورہ تیار کرکے دکھاؤ لیکن عرب جنہیں اپنی زبان دانی پر ناز تھا اور جو خود کو وقت کی گویائی کا اور قادر الکلامی امام سمجھتے تھے وہ چند آیتیں اس جیسی نہیں پیش کر سکے_
متقدمین زیادہ تر قرآن کو بلاغت اور ادب کے اعتبار سے معجزہ مانتے ہیں کیوں کہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور عربی زبان کے ادباء شعراء اور ماہرین بلاغت اور زبان و بیان کے جوہریوں کو یہ چیلنج دیا گیا تھا کہ اس جیسی سورہ لا کردکھاؤ اور عربی زبان کے ماہرین اور بلاغت کے امام اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز تھے_
قرآن صرف زبان وبیان کے اعتبار سے معجزہ نہیں ہے بلکہ معانی اور مفاہیم کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے احکام و شریعت کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے غیب کی خبروں کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے اور مستقبل کی پیشین گوئیوں کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے، لیکن چونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور عرب اپنی زبان پر بہت فخر کرتے تھے اور دوسری زبانوں کے بولنے والوں کو عجمی یعنی گونگا کہتے تھے اس لئے اوائل دور کے علماء اور متقدمین نے ادبی بلاغت کو معجزہ قرار دیا اور جو کتابیں لکھی گئیں جیسے جرجانی کی اسرار البلاغہ اور دلائل الاعجاز اور مانی کی الکنت فی اعجاز القرآن وغیرہ ان سب میں سارا زور قرآن کے اعجاز بلاغت پر ہے اور ان کتابوں میں قرآن کی بلاغت کے بے شمار نمونے پیش کئے گئے ہیں قرآن کی پہلی سورہ خود اعجاز کا بہترین نمونہ ہے لیکن قرآن کے اعجاز کو سمجھنے کے لئے فن معانی اور بدیع پر دسترس ضرور ہے اور ادبی ذوق ضروری ہے اور جب تک عربی زبان کے شعر وادب کا گہرا مطالعہ نہ ہو اور انسان اسرار بلاغت سے آگاہ نہ ہو انسان قرآن کی بلاغت کو نہیں سمجھ سکتا ہے قرآن کی تلاوت کرنے سے ثواب ملتا ہے قرآن کے معانی اور مفاہیم کا جاننا بھی ضروری ہے کیونکہ قرآن کتاب ہدایت ہے اور ہدایت اسی صورت میں پورے طور پر مل سکتی ہے جب انسان قرآن کے معانی اور مفاہیم کو بھی جاننا چاہے ترجمہ پڑھ کر چاہے عربی زبان سیکھ کر، لیکن قرآن کے ادبی اعجاز کو جاننے کے لیے عربی زبان میں بلاغت اور فصاحت کو سمجھنا بہت مشکل ہے مثال کے طور پر قرآن میں ہے" فدمدم علیہم ربھم بذنبھم فسواھا" اس آیت میں عذاب کے نزول کا تذکرہ کیا گیا ہے اس آیت میں"دمدم"کی جگہ کوئی دوسرا لفظ نہیں رکھا جاسکتا تھا اس لفظ سے صرف عذاب کے نزول کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ عذاب کی دھمکی بھی سنائی دے رہی ہے_
اسی طرح قرآن میں ہے" انّ فرعون علی فی الارض" فرعون کے یہاں جبر و نخوت اور گھمنڈ کے جو تیور تھے اس کے بیان کے لئے اس سے بہتر کوئی دوسرا لفظ نہیں ہو سکتا یہ بات عربی نہ جاننے کو سمجھنا بہت مشکل ہے _ کیسے بتایا جائے کہ علا میں عین حروف حلقی ہے اس سے قوت و طاقت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس حرف کے بعد حرف لام ہے جس سے بلندی اور اس کے بعد الف ہے جس سے سر بلندی کا اندازہ ہوتا ہے، حرف ب مسطح ہے اور حرف میم نشیب کی طرف اشارہ کرتاہے لیکن لام اور الف دونوں سر بلند ہیں فرعون کی نخوت اور تمکنت کے بیان کے لئے عربی زبان میں اور کوئی دوسرا لفظ موجود نہیں تھا_
یہ صرف چند مثالیں تھیں جن سے یہ بتانا مقصود تھا کہ عربی زبان کی بلاغت کے فن سے آشنا شخص کو قرآن کے ادبی معجزہ کا سمجھانا بہت دشوار کام ہے_ قرآن کی تلاوت آسان ہے اور کتاب ہدایت کی حیثیت سے اس کی مفہوم کا جاننا بھی مشکل نہیں لیکن اس کے ادبی معجزہ کو غیرعربی دان کو سمجھانا ایک بہت مشکل کام ہے، اسی لئے عام طور پر اردو کے مفسرین آیتوں کا ترجمہ بتاتے ہیں اور مطلب بھی بتاتے ہیں لیکن عربی زبان کے بلیغانہ فصیحانہ اسلوب کا تذکرہ نہیں کرتے ہیں کیونکہ غیر عربی دان کو قرآن کی بلاغت کا سمجھانابہت مشکل کام ہے_
تبصرے