مسلم نوجوان طبقہ اور مثبت سوچ
مسلم نوجوان طبقہ اور مثبت سوچ
از: اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
ہر سماج میں نوجوان طبقہ کی بہت اہمیت ہوتی ہے_اپنے وقت کا یہ طبقہ ہی اس سماج کے مستقبل کی علامت مانا جاتا ہے اس لیے یہ بات بہت اہم ہو جاتی ہے کہ ہماری نئی پیڑھی مثبت سوچ کی حامی ہے یا منفی کی،نئی نسل کو اگر وقت کے رہنماؤں اور ان کے بزرگوں کی طرف سے مثبت سوچ ملتی ہیں تو وہ ترقی،محنت اور حوصلہ مندی کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اپناتے ہیں_قرآن کریم انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لئے جو حکم دیتا ہے اس کا دائرہ کتنا وسیع ہے جس کو ان دونوں آیتوں سے سمجھا جا سکتا ہے:
عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منھم مودۃ۔
ترجمہ:ہو سکتا ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور جن سے تمھاری دشمنی ہے ان کے درمیان محبت اور دوستی پیدا کردے _
لا ینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوآ الیھم۔ ترجمہ: اللہ ان لوگوں (غیر مسلمان )سے جن سے دین کے معاملے میں تمہاری جنگ نہیں ہوئی اور انہوں نے تمہیں گھر سے نہیں نکالا ان کے ساتھ اللہ تعالی تم کو اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو اور انصاف کرو_اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے_ایک آیت میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ دین کے معاملے میں تم کسی بھی مسلمان کی مدد کر سکتے ہومگر اس قوم کے خلاف مدد نہیں کر سکتے جن کے اور تمہارے درمیان عہد اور میثاق ہے_ہم اس بات کو اور اس طرح سے واضح کر سکتے ہیں کہ کسی ملک کے شہری ہونے کا مطلب سب سے پہلے یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے دستور کو تسلیم کرے اور ظاہر ہے کہ دستور سے بڑا کوئی عہد اور میثاق نہیں ہوتا اس لیے کہ یہ قرآن کی زبردست رہنمائی ہے تمام شہری خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم سب یکساں طور پر ملک کے دستور سے بندھے ہوئے ہیں، اس لئے ہمارے وطن کے خلاف کوئی مسلم ملک بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو قرآن پر ایمان کا تقاضہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی مسلمان اس کی حمایت اور ہمدردی نہ کرے، اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہمارے بڑوں کی طرف سے نئ نسل کے دماغ میں قرآن کی یہ رہبری سکھائی جائے تو ان کے اندر کتنی زیادہ خود اعتمادی پیدا ہوگی کہ وہ دستوری زندگی گذارنے کے ساتھ ساتھ عین اسلامی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہوں گے یہ بات ہمارے نوجوانوں کو دوہری خوشی دے گی اور اپنی ترقی اور سماج کو مضبوط کرنے میں وہ دوہرے جوش کے ساتھ آگے بڑھیں گے_____
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بھی اسی ک مثال ہے یہاں ہم نے صرف چند باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے_____
تبصرے