دینی مدارس کی فضیلت
دینی مدارس کی فضیلت
اس وقت عالمی پیمانے پر اسلام کوبدنام کرنے کی مذموم کوششیں ہورہی ہیں ملت اسلامیہ کو بے اثر بے نام و نشاں کردینے کی سعی کی جا رہی ہیں ہر جگہ ان کے بقا اور دین کے ساتھ ان کے تعلق کو ختم کرنے کی سازشیں چل رہی ہیں اور فکری تمدنی سماجی بلکہ ہر میدان میں بڑے بڑے فتنے کھڑے کیے جا رہے ہیں_کیونکہ فسطائی طاقتیں اسلام اور مسلمان کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں لہذا ان کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ اسلام کی مذہبی خصوصیت کے یہ ادارے جو مسلمانوں میں اسلامی خصوصیت کے تحفظ کا کام کر رہے ہیں کس طرح ختم کردیے جائیں_
یہی وجہ ہے کہ آج کل ہر طرف سے مدارس اسلامیہ پر خلاف فرقہ پرست طاقتیں اور طرح طرح کی سازشیں کر رہی ہیں کہیں مدارس اسلامیہ پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں_بے بنیاد الزامات لگا کر ان کے وقار کو مجروح کیا جا رہا ہے تاکہ دینے تحفظ کے یہ ادارے ختم ہوجائیں اور دنیا میں منمانی زندگی کی فضا عام ہو جائے_
تاریخ بتاتی ہے جن ملکوں میں دینی ادارے ختم کر دیے گئے_وہاں اسلامیت بھی ختم ہوگئی روسی عہد میں مسلمانوں کے دینی مدرسوں کے ختم کردینے کے بعد صرف دو نسلیں گزرنے پر یہ حال ہو گیا تھا کہ بہت سے لوگ نماز روزہ تک کا مطلب سمجھنے سے محروم ہوگئے تھے حتی کہ اسلام میں عبادت کے لفظ کا جو مطلب ہےاس تک سے ناواقف ہو گئے تھے_اسلامی عقیدہ سے اور اس کے احکام سے واقف ہونا تو دور کی بات ہے وہ معمولی دینی باتوں سے بھی واقفیت نہ رکھ سکے تھے سوا ان بعض محدود علاقوں کے جہاں خفیہ دینی تعلیم دی جاتی رہی ہے ان کے علاوہ بقیہ عام علاقوں میں دین سے بالکل نا واقفیت ہو گئی تھی اگرچہ وہ اس کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہے اسلام سے ان کا رشتہ صرف یہی رہ گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمان نسل کا جانتے تھے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ جو مغرب و مشرق کے احوال سے واقف تھے انہوں نے بھی دینی مدرسوں کی اہمیت بتائی ہے اور صاف اور موثر انداز میں ان کی قدر و قیمت ظاہر کی ہے وہ فرماتے ہیں ان مکتبوں اور مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدرسوں میں پڑھنے دو کیونکہ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا اب جو کچھ ہو گا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں،اگر ہندوستان کے مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح جس طرح اندلس مسلمانوں کو آٹھ سو برس حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات کے نشانات کے سوا اسلامی تہذیب کے اثرات کا کوئی نقش نہیں ملتاہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دہلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی 800 سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا_موجودہ دور میں یہ مدارس اسلامیہ تینوں تہذیب کے وجود کا بہت بڑا ذریعہ ہے یہی وہ مدارس ہیں جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی علم دین کی شمع روشن رکھی ہے ہماری ملی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ برصغیر میں جو دینی روح نظر آرہی ہے وہ ان بے سروساماں مدارس اور ان کے بوریہ نشیں علماء صلحاء کی بے لوث قربانیوں کا ثمرہ ہے____________
تبصرے