اپنے ایمان کو مضبوط اور اخلاق کو سنوارنے کی ضرورت ہے

اپنے ایمان کو مضبوط اور اخلاق کو سنوارنے کی ضرورت ہے

از قلم: اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند



                     اقتدار و قوت  حکومت و سیاست شان و شوکت ایک عارضی شئی ہے اس جہاں میں نہ خوشی دائمی ہے نہ غم ابدی ہے قوموں کے عروج و زوال کے داستان  تاریخ کے صفحات پر بکھرے پڑے ہیں اس کرہ  ارض پر اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو غلبہ و دبدبہ عطا کیا اور اپنی زمین کا وارث بنایا بہت سی قوموں نے اقتدار کے نشے اور طاقت کے غرور میں یہ سمجھ لیا کہ وہ کرہ خاکی کے سیاح اور چلمبردار کے مالک بن بیٹھے ہیں  لیکن چند دنوں میں ہی ان کی کایا پلٹ دی گئی اور وہ تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گئے  ایران کے بادشاہ کا نام مٹ گیا قیصروکسریٰ کی پائیدار سلطنت ختم ہوگئی عاد و ثمود کا قلعہ منہدم ہو گیا اور وہ ہر قوم جسے اللہ تعالی نے قوت و طاقت عطا کی اس نے اس دنیا کی محفلوں اور مجلسوں میں اپنے اپنے وقت پر اقتدار و حکومت کے کرتب دکھائے پھر اس بلند دنیا سے غائب ہوگئی اس لیے کہ حقیقتاً  یہ کائنات اللہ کی ملکیت ہے اللہ تعالی کسی کو اس سر زمین کا وارث بناتے ہیں  نہ مالک :"ان الارض للہ یورثہا من یشاءمن عبادہ"اللہ جل شانہ چاہتے ہیں کہ اس زمین پر عدل و انصاف کی حکمرانی ہو جوحق والوں کو دیا جائے کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہو کسی کو ڈرایا دھمکایانہ جائے نسل انسانی کا ادب و احترام ہوانسان اپنی اس پیشانی کو صرف مولائےحقیقی کے سامنے جھکائے اس کا ایمان و عقیدہ پختہ ہو جب تک امت مسلمہ کے اندر یہ اوصاف حمیدہ موجود تھے تو انہوں نے سالہا سال تک حکومت کی اور روئے زمین پر عدل و انصاف  اور دیانت و امانت داری کی وجہ سے ان کا دبدبہ قائم تھا۔
 اس وقت ملک  ہندوستان کی عوام  بالخصوص مسلمان کش مکش خوف و دہشت کا شکار ہیں اقتدار اور حکومت کی تبدیلی نے اس زندگی کی کشتی کو بھنور میں پھنسا دیا ہے  اس سے بچ کر ساحل تک پہنچنا بہت دشوار اور ناممکن ہے  یہ تو صحیح ہے کہ ہر فرد بشر کو خاص کرکے امت مسلمہ کو ہر وقت اور ہر آن خطرے سے آگاہ رہنا چاہئےگردوپیش کے حالات زمانے کی تبدیلی کا اسے علم رہنا چاہیے لیکن خوف و ہراس  اور آئندہ کے اندیشہ میں خود کو گرفتار کر لینا ایمان کی شان کے منافی ہے ایمان اور عمل صالح کی  شرط کے ساتھ مسلمانوں کا مستقبل درخشاں وتابناک ہے اس لئے کہ  زندگی تغیرو تبدل ہی  کا نام ہے۔ اسی لئے مسلمانوں کو اس یقین کی فضا کو برقرار رکھنا ہو گا اور مسلمانوں کو یہ اصول بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اقتدار کی تبدیلی اعمال و اخلاق کی تبدیلی کی وجہ سے ہی وجود میں آتی ہے، اگر ہمارے اعمال و اخلاق درست ہوں گے تو پھر ساری طاقتیں گھٹنے ٹیک دینگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں