‎اللہ کی تخلیق کے کرشمہ قرآن کی روشنی میں ‏



     اللہ کی تخلیق کے کرشمہ قرآن کی روشنی میں 
      
      از قلم : اسعد اقبال يكهتوي متعلم دارالعلوم وقف ديوبند






         ولقد مکنکم فی الارض و جعلنا لکم فیہا معایش قلیلا ما تشکرون
"بلاشبہ ہم نے تمہیں زمین میں ٹھہرایا اور تمہارے لئے اس نے زندگی کے اسباب بنائے تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو" ( الأعراف آیت نمبر 10 )

اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر بھیجتے وقت یہ ہدایت دی تھی کہ اب تیرا جینا مرنا اور محشر کے دن اٹھنا اور اس میں  تیرے رہنے سہنے کا سامان ہے۔ ہاں یاد رکھنا میری طرف سے تمہاری رہنمائی کیلئے احکام نازل ہوتے رہیں گے جس نے ان کے مطابق زندگی بسر کی اسے  کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔
 وجعلنا لکم فیہا معایش ومن لستم لہ برازقین الخ

"ہم نے تمہارے لیے زمین میں کئ قسم کے اسباب پیدا کئے ہیں اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہوں کوئی ایسی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے ایک معلوم اندازے کے مطابق اتارتے ہیں( الحجر آیت نمبر 20 -21)

                   اللہ تعالی کی تخلیق کا کرشمہ اور اس کا ناقابل فراموش احسان ہے کہ اس نے ہر چیز کو ایک متعین شکل و صورت اور مقدار میں پیدا کیا ہے۔ جنس انسانی کے حوالے سے اگر دنیا میں ہمیشہ مردوں یا عورتوں کی بہتات رہتی ہے تو سلسلہ تخلیق کس طرح متناسب رہ سکتا تھا۔ یہی صورتحال نباتات کی ہے۔ ایک علاقے میں ایک جنس کی پیداوار زیادہ ہے تو دوسرے علاقے میں کسی دوسری چیز کی پیداوار زیادہ ہوگی۔
              اس کے ساتھ یہ بات بتلائی کہ زمین کو صرف فرش کے طور پر ہی نہیں پھیلایا گیا بلکہ اس میں تمام جاندار چیزوں کی معیشت اور رزق کا نہایتمناسب نظام قائم کر دیا گیا ہے۔ انسان تو اپنی روزی خود کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن زمین اور اس کے اندر یہاں تک کہ فضاؤں میں بسنے والی مخلوق کو صرف اللہ تعالیٰ رزق مہیا کرتا ہے اور ہر کسی کو اس کی روزی اس کی ضرورت کے مطابق پہنچائی جاتی ہے اور اللہ کی پاس ہر چیز کے لامحدود خزانے  ہیں جسےوہ ہر دور میں مناسب اور اپنے ہاں متعین کردہ مقدار کے مطابق نازل کرتا رہتا ہے ۔

                       اے نبی! ان سے کہو کیا تم اس اللہ کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دودنوں میں بنا دیا۔ وہی پوری کائنات کا رب ہے اس نے زمین بنانے کے بعد اس پر پہاڑ جما دیئے اور ان میں برکت رکھ دیں اور زمین میں سب طلبگاروں کے لئے ان کی ضرورت کے مطابق ٹھیک اندازہ کے لحاظ سے خوراک کا انتظام فرمادیا یہ سب کام چار دن میں ہوگئے  (حم سجدہ آیت نمبر 9 .10)

         قرآن مجید نے یہ بات بھی کئی بار بتلائی  کہ  زمین و آسمان کو اللہ تعالی کے سوا کسی نے نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے بنانے میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک تھا اس لئے کفار سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا تم اس ذات کبرائی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا فرمایا اس کے باوجود تم بتوں ۔ بزرگوں اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو حالانکہ تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ایک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی نے زمین پر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت پیدا فرمائی اور اس میں ہر قسم کا معیشت کا سامان رکھا جو ضرورت مندوں کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے زمین میں ہر قسم کا ذخیرہ پیدا فرما دیا تاکہ زمین میں رہنے والی مخلوق قیامت تک اپنی ضروریات پوری کرتی رہے اس میں پہاڑ۔ سمندر۔صحرا اور ہر چیز شامل ہیں اس میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ علاقے کی بجائے مختلف چیزوں کے زمین کے مختلف طبقات میں رکھا جائے تاکہ تمام لوگ ایک دوسرے کے ضرورت مندہوں اور آپس میں رابطہ رکھنے کی ضرورت محسوس کرتے رہے اس لئے سائلین کا معنی حاجت مند بھی کیا گیا ہے ۔اللہ تعالی نے زمین ۔ سمندر اور پہاڑوں میں اس طرف خزانے چھپا دیئے ہیں کہ ہر دور کے انسان اپنی کوشش اور صلاحیت کے مطابق نکالتے رہیں گے اور ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

               اللہ تعالی اپنی ربوبیت اور براہین کے دلائل اور توحید کے ثبوت مختلف الفاظ اور انداز میں انسان کے ذہن نشین کرتا ہے تاکہ انسان اپنے خالق کی پہچان حاصل کرے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے باز آجائے گویا کہ ربوبیت کے دلائل دینے کا مقصد الوہیت ثابت کرنا ہے اللہ کی 
الوہیت کی بلا  شرکت غیرے مانے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ۔ کیا ایک درخت بھی اللہ کے علاوہ کوئی اور پیدا کر سکتا ہے؟ ہمیں اللہ کی تخلیقات کے کرشموں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالی کے سوا نہ کوئی ان چیزوں کو جانتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں