دنیا کی سب سے بڑی نعمت قرآن ہے

     دنیا کی سب سے بڑی نعمت قرآن ہے







   الٓراكتٰبٌ انزلنٰه اليك لتخرج الناس من الظلمٰت الى النور. باذن ربهم.(سوره ابراهيم)

        یہ (قرآن )ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا ہے تاکہ تمام لوگوں کو اپنے رب کے حکم سے (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آویں___

     قرآن کریم حقیقت میں ایک ایسی بے مثل کتاب اور بے بہا نعمت خداوندی ہے کہ دنیا کے سارے انسان، آسمان و زمین میں پیدا ہونے والی تمام مخلوقات اس کا بدل اور اس جیسی ایک آیت بھی پیش نہیں کرسکتی_ مذکورہ آیت میں پروردگار عالم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب بناتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ" ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک کتاب قرآن نازل کیا ہے اور یہ قرآن اس لیے اتارا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذریعہ سے دنیا کے تمام انسانوں کو کفروشرک ، ضلالت و گمراہی، فسق و فجور ، فحش و بے حیائی اور ہر طرح کے برے کاموں کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور حق کی روشنی میں لے آئیں"_ اس آیت سے صاف اور واضح طور پر یہ بات آشکارا ہو جاتی ہے کہ اولاد آدم اور بنی نوع انسانی کو شرک و بت پرستی کفر و ضلالت اور ہر طرح کی بے حیائی اور فحش کاری کی تاریکیوں سے نجات دلانے اور نورِ ایمانى اور ہدایت کی روشنی میں لانے کا واحد ذریعہ قرآن ہے، انسان اور انسانیت کو دنیا اور آخرت کی بربادی اور ہلاکت سے نجات دلانے کا واحد راستہ اللہ کی یہ پر رونق کتاب اور رہتی دنیا تک باقی رہنے والا یہی قرآن ہے ، جب تک لوگ اپنے آپ کو اس کے قریب کرتے رہیں گے اس کو دنیا میں بھی امن و امان اور عافیت نصیب ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح و کامیابی حاصل ہوگی اور جتنا اس سے دور بھاگے گا اتنا ہی مصیبتوں دقتوں اور دونوں جہان کی خرابیوں کا ان کو سامنا کرنا پڑے گا___


    قرآن ایک عظیم ترین کتاب ہے

رب کائنات نے آیت مذکورہ میں قرآن کو نازل کرنے کی نسبت اپنی طرف اور خطاب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے اس بات کی طرف واواضح اور بین اشارہ کیا ہے کہ یہ قرآن نہایت عظیم المرتبت اور باعث رفعت و عظمت والی کتاب ہے قرآن حقیقت میں اللہ کی ایک ایسی کتاب ہے_قران حقيقت میں اللہ کی ایک ایسی کتاب ہے جو تمام کتابوں اور کلاموں سے افضل و برتر ہے _ اس کی فضیلت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حاملین قرآن، حفاظ کرام الله کے سایہ کے نیچے انبیاء اور برگزیدہ لوگوں کے ساتھ ہوں گے ، جس کا قلب نور قرآنی سے مجلىٰ اور منور ہو، اس کو عذاب جہنم خاکستر نہیں کرسکتی__ یقینا قرآن کریم ایک ایسی لازوال دولت ہے ، ایسی بابرکت کتاب ، ایسا نسخئہ کیمیا اور زندگی کا ایک ایسا دستور العمل ہے جس کی تلاوت کر کے اس پر عمل پیرا ہو کر انسان اپنی زندگی کے لمحات کو ضلالت و گمراہی اور فسق و فجور سے نکال کر ہر طرح کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچا کر راہ حق کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں_ یہ قرآن ایک ایسی لازوال نعمت ہے جو اپنی پیروی کرنے والوں اور اس پر اپنی زندگی قربان کرنے والوں کو پستیوں اور قعر مذلت سے نکال کر بلند و بالا چوٹیوں کی طرف ذلت و رسوائی سے ہٹا کر عزت اور سربلندی کے اعلی مقام پر فائز کر سکتا ہے _ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: كه ان الله يرفع بهذالكتاب اقواماويضع به آخرين" اس کلام کے ذریعہ رب کریم بعض لوگوں کو رفعتیں اور رعظمتیں عطا کرتا ہے اور بعض کو بستیوں اور ذلت میں پھینک دیتا ہے"__


    قرآن کریم تاقیامت زندہ اور باقی رہنے والا معجزہ ہے

  اللہ تبارک و تعالی نے جب سے یہ دنیا بنائی ہے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر دور اور ہر زمانہ میں ایک ہادی رہنما اور رسول بھیجتے رہے ہیں کوئی قوم اور کوئی خطه ملک ایسا نہیں ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور ہدایت کرنے والوں سے خالی ہو اور ہر ایک نبی اور رسول کے ہاتھوں طرح طرح کے معجزات ظاہر کرتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دیگر انبياء کو طرح طرح کے معجزات سے نوازا لیکن ان کا معجزه عارضی اور وقتی تھا ان سے پیدا ہونے والے اثرات ان کی زندگی تک باقی اور قائم تھے، جب وہ اس دنیا سے چلے گئے تو ان کے معجزات بھی مٹ گئے ان کے اثرات ختم ہوگئے _ جب آخری نبی ، نبی الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رسول اور ہادی بنا کر مبعوث ہوئے تو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو جہاں بے شمار معجزہ سے نوازا، ان میں سب سے بڑا معجزه قرآن کریم کا بھی عطا کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو معجزہ اعظم قرار دے کر قیامت تک باقی اور قائم رہنے والا معجزہ قرار دیا اور اعلان عام کیا کہ یہ قرآن ہمیشہ دنیا میں قائم رہنے والا ہے اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں_ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:" پیغمبروں کو اللہ نے اس قدر معجزہ عنایت کئے جن کو دیکھ کر لوگ ایمان لائے لیکن جو معجزہ مجھے مرحمت ہوا وہ (وحى)قرآن ہے جس کو اللہ نے مجھ پر اتارا اس لئے میں  امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیرؤں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی" (بخاری شریف)  جس وقت کفار اور مشرکین عرب نے آپ سے معجزه کا مطالبہ کیا تھا تو پروردگار عالم نے قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: اولم يكفهم اناانزلنا عليك الكتاب يتلى عليهم(عنكبوت) کیا وہ کتاب ان کے لئے کافی نہیں ہے جس کو ہم نے اس پر اتاری ہے جسے ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے___

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں