مدارس اسلامیہ کی اہمیت و افادیت

مدارس اسلامیہ کی اہمیت و افادیت 

             
  بقلم : اسعداقبال يكهتوى متعلم : دارالعلوم وقف ديوبند

      ہمارا یہ  ملک ہندوستان جس میں ہم اپنی زندگی کے شب و روز بسر کر رہے ہیں، اس کے طول و عرض میں ہر مکتب فکر کے لوگ رہ رہے ہیں، اور جن کے علم و فن سے ہر ذي علم و ذي شعور حضرات مستفید ہو رہے ہیں اور انشاءاللہ رہتی دنیا تک فائدہ اٹھاتے رہیں گے، ان کی خدمات کی شہر صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ  بيرون ہند  بھی ہے ایسی عبقری شخصیات نے ہی مدارس اسلامیہ میں رہ کر اپنی علمی پیاس بجھائ اور ملک و قوم کی خدمت انجام دیں_ جن کی مثال تاریخ پیش کرنے سے عاجز ہے، انہی اداروں نے ان حضرات کو سر اٹھا کر جینے کا سبق سکھایا تھا، بحمد للہ آج بھی اپنے مشن اور طریقہ کار میں ہمہ وقت مصروف و مشغول ہیں اور رہتی دنیا تک یہ سلسلہ قائم و دائم رہے گا انشاءاللہ_
اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو ہم اپنے مذہب اور مسلک سے واقف نہ ہوتے اور نہ ہی اس کے اسرار و رموز سے واقف ہوتے اور نہ ہی ہماری اس ملک میں پذیرائی اور مقبولیت ہوتی، لیکن افسوس ہے کہ آج انہیں علماء و فضلاء كو اتنگواد اور دہشت گرد گرانا جا رہا ہے اور گہوارہ علم و فن کو دہشت گردی اور آتنگوادی کا اڈہ کہا جا رہا ہے_ جس کی وجہ سے جگہ جگہ یہاں کے باشندگان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ہر موڑ پے  ذلیل و رسوا کیے جارہے ہیں اور ہر طرح کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جو سراسر  ظلم و نا انصافی ہے_ اگر یہ نہ ہوتے تو انگریزوں دشمنان اسلام اور ملک سے مقابلہ کرنے والا کون پیدا کرتا ؟ اور کسی طرح اس کی حفاظت و صیانت کی جاتی آج غیروں کی طرف سے یہ خطرناک آواز کانوں میں پڑتی ہے کہ مدارس اتنگوادی اور دہشت گردی کا اڈہ ہے، یہاں ملک کے حالات اور شہری فضا کو خراب کرنے والی جماعت پیدا اور تیار کی جاتی ہے، حالانکہ یہ انکی نہ سمجھیں اور خام خیالی ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو اپنی زبان و قلم سے دیس اور ملک کے ہر فتن حالات اور بدامنی کی فضا کو دور کرکے ملک میں خوشحالی اور پرامن ماحول قائم کریں، تاکہ ہر مکتب فکر کے لوگ اور ہر طرح کے خیالات رکھنے والے اپنے ملک و خیالات پر کھل کر آزادانہ عمل کر سکے اور دلیری اور بے باکی کے ساتھ زندگی گزار سکے_

ابھی سو دو سو سال بھی نہیں  بلکہ  ساٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ انگریز کے تسلط سے کس قدر جینا دو بھر ہو گیا تھا اور ہر ایک انسان دوسرے انسان کا جانی دشمن بن گیا تھا_ اور انسانیت کے بجائے حیوانیت پیدا ہو گئی تھی اور زندگی گزارنا دوبھر اور مشکل ہو گیا تھا_ اور ملک کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا تو انہیں سپہ سالاروں اور اسلام کے جیالوں نے جواں مردی کا ثبوت دیا اور اپنی موت کو ہتھیلی پر رکھ کر اور کفن سر پر باندھ کر میدان کارزار میں کود پڑے_ ان ناپاک منحوس لوگوں کو یہاں سے نکال بھگا کر دم لیا اور ملک اور یہاں کے باسی کو آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع دیا یہ کون تھے اور کہاں سے پیدا ہوئے تھے، کیا ان کی قربانیوں کو نہیں دیکھتے اور اس وقت کے خطرناک پس منظر پر غور نہیں کرتے اور جنگ آزادی کو انقلابی تاریخ پر نظر نہیں دوڑاتے اور اس کی افادیت پر نظر نہیں ڈالتے اور بلاسوچے بد نام کیے جا رہے ہیں اور ہم ان لوگوں سے ازراہ کرم درخواست کر رہے ہیں کہ آج ہی اس بدگمانی سے توبہ کرلے اور اپنے گندے خیالات سے باز آجائے اپنی زبان و قلم سے یہ ظاہر کریں کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کا اڈہ نہیں، بلکہ امن و امان کا آماجگاه ہے یہاں انسانیت کا درس دیا جاتا ہے مذہب ودھرم کے احکامات سیکھنے کا گہوارہ اور سینٹر ہے جس کے اس ملک کے ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت اس کا محتاج ہے اس لیے ضرورت کو اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کی قیمتی سرمایہ آب زر تصور کریں اور اپنا رخ اور عوام الناس کے خیالات کو اس طرف متبدل کرائیں تاکہ ان کی ترقی اور تحفظ ہوسکے اور ادارہ آئندہ اچھا کردار نبھائے اور ہم بھی آنے والی ایک طویل زندگی میں خدائے رب العالمین کے سامنے منہ دکھانے کے قابل ہوجائیں_______

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں