خواتین حالات کا رونا چھوڑیں
خواتین حالات کا رونا چھوڑیں
ازقلم: اسعداقبال يكهتوى متعلم دارالعلوم وقف ديوبند
لڑکیاں👩 صنف نازک ہوتی ہیں۔ یہ بات برسوں سے ہم سنتے آرہے ہیں۔ اس جملے کا بعض اوقات واقعی اتنا برا اثر ہوتا ہے کہ اکثر لڑکیاں👩 صنف نازک کے اس خول سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتیں۔ وہ اس بات کو پکڑے بیٹھی رہتی ہیں اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی میں کچھ کرنے کیلئے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ کئی موقع پر جب وہ اپنے لیے آگے نہیں آتیں تو ان کا نقصان بھی انہیں ضرور ہوتا ہے۔ اکثر لڑکیاں👩
صبر کرکے مشکلات کو جھیلتی رہتی ہیں لیکن کبھی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے جدوجہد نہیں کرتیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ مشکلات ان کے نصیب میں لکھ دی گئی ہیں لہذا اسے انہیں خاموشی سے ہی جھیلنا ہوگا۔ اب مثال کے طور پر طوطے کا پنجرہ کھول دیا جائے اور وہ طوطا یہ سوچ کر اسی میں بیٹھا رہے کہ بھئی آخر کسی وجہ سے ہی اسے اس پنجرے میں ڈالا گیا تھا، کوئی تو اہم وجہ ہوگی ، وہ اس وجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اڑکر آزادی حاصل کرنا ہی نہ چاہے تو اسے آزادی کیسے مل سکتی ہے؟ یہی مثال اکثر خواتین کی ہے، جو اپنے حالات اور مشکلات کا رونا تو روتی رہتی ہیں لیکن اپنے ان حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتیں۔ یاد رکھیں کہ اگر اپنے لئے خود کھڑی نہیں ہوں گی تو کوئی بھی آپ کی مدد کے لیے آگے نہیں آئے گا۔ ہمارے ارد گرد بہت سے ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان خواتین کی مشکلات کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب تک یہ خواتین خود اس بات کا فیصلہ نہیں کرتیں کہ انھیں کسی کی مدد درکار ہے، اس وقت تک ان کی مشکلات حل نہیں ہوں گی۔ اس لئے یہ سمجھ لیں کہ آپ اپنے مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ہی ہیں اس لیے اگر آپ چاہیں گی اس وقت ہی آپ کے مسائل حل ہو پائیں گے ۔ بصورت دیگر وقت حالات اور لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرائےرہنا غلط ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے