ہیں تیرے غم میں پورا دار سوگوار

       ہیں تیرے غم میں پورا دار سوگوار


          ازقلم :اسعد اقبال یکہتـــــوی
       
          آئے دن کوئی نہ کوئی دنیا سے رخصت ہوتا ہے اس میں مرد بھی ہوتے ہیں عورتیں بھی، بچے بھی ہوتے ہیں جو ان بھی، عام بھی ہوتے ہیں اور عالم بھی ، دنیا میں جو بھی آئے گا وہ ایک دن یہاں سے چلا جائے گا کسی کے لیے بھی یہاں ہمیشہ رہنا نہیں ہے سب کو فنا ہونا ہے باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے"کل شئ ھالک الا وجھه"یعنی ہر چیز ختم ہوگئی سوا اللہ کی ذات کے۔
اللہ کے نبی نے امت کو دنیا میں رہنے کے لئے یہ سبق دیا ہے کہ "کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل"یعنی دنیا میں تم اس طرح رہو جیسا کہ ایک اجنبی آدمی رہتا ہے یا راستہ عبور کرنے والا۔ایک اجنبی آدمی جب کسی جگہ جاتا ہے تو کس طرح رہتا ہے وہی آدمی اپنے وطن میں رہتا ہے تو کس انداز سے رہتا ہے دونوں میں بہت فرق ہے، تو حدیث پاک کے الفاظ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کا اصل وطن آخرت ہے نہ کہ دنیا، دنیا میں کچھ وقت رہتا ہے جو عمر اللہ کے پاس سے لے کر آیا ہے اتنی ہی عمر اس دنیا میں رہتا ہے۔‌‍‍‌‌


جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے 
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

دنیا میں بڑے بڑے لوگ آئے اور اپنا علم و ہنر اور دم خم دکھا کر چلے گئے آج وہ منوں مٹی میں دب کر رہ گئے ہیں۔

قیصر اور سکندر وجم چل بسے
ژال و سہراب اور رستم چل بسے
کیسے کیسے شیر وضیغم چل بسے
سب دکھا کر اپنا دم خم چل بسے

(کل نفس ذائقۃ الموت) ہر آنے والے کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔موت کسی کو مفر نہیں آدمی سب کا انکار کر سکتا ہے لیکن موت کا نہیں کر سکتا، اللہ تک کا انکار کر نے والے ملحدو زندیق قسم کے لوگ بھی دنیا میں آۓ اور ختم ہو گئے ــ
اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے موت کا ایک وقت مقرر کیا ہے۔
موت اسی وقت آکر رہے گی "یدرک کم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ"قیمتی سے قیمتی انسان بھی اس فانی دنیا کو رخصت کر کے چلا جاتا ہے، انہی قیمتی انسانوں میں سے میری عم زاد خواہر مرحومہ شادماں نیاز بھی ہیں۔
جو ایک ڈیڑھ ہفتے سے بہت زیادہ علیل تھیں جس کا علاج بھی کراتے رہے، افاقہ بھی ہوا لیکن"اعیادواءالموت کل طبیب" موت کی دوا نہ کسی کے پاس ہے اور نہ کسی نے اس کے علاج کا دعویٰ کیا"کل من علیھا فان ،ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلل والاکرام"

سب کے سب ہیں ہیں رہ رو کوۓ فنا
جا رہا ہے ہر کوئی سوئے فنا
بہہ رہی ہے ہر طرف جوۓ فنا
آتی ہے ہر چیز سے بوۓ فنا

 بہرحال وقت موعود آن پہنچا اور آپ ١٩ /محرم الحرام ١٤٤٥ھ مطابق ٨/ستمبر ٢٠٢٠ءکو اس دار فانی سے اس عالم جاودانی کی طرف رحلت ہوگئی۔"انا للہ وانا الیہ راجعون"وانا انشاء اللہ بکم لا حقون نسأل اللہ لنا ولکم العافیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں