شادی کے سلسلے میں اسلامی نظریہ

        شادی کے سلسلے میں اسلامی نظریہ



               اسعداقبال يكهتوى 





       جہاں ایک انسان کو بحثیت بشركئی تقاضے پیش آتے ہیں وہیں ایک تقاضہ جنسی خواہش ہے جسے انسان حلال طریقے سے مشکل نکاح پوری کرتا ہے جس کی اجازت خود رب کائنات  قرآن کریم میں دیتا ہے
      رفانكحوا ماطاب لكم من النساءالخ 
       "کہ تم نکا ح  کروان
عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں"
       اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سلسلے میں بے شمار احادیث ہیں:
          *النكاح من سنتى وسنةالانبياءقلبى*
       "کہ نکاح میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی سنت ہے"
   ایک دوسری حدیث ہے:
        *النكاح من سنتى فمن رغب عن سنتى فليس منى*
     "کہ نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ ہم میں سے نہیں"
     اسی طرح ایک حدیث میں ہے:
          من تزوج فقدستكمل نصف الايمان فليتق الله في النصف الباقى
     "کہ جس نے نکاح کیا اس نے نصف دین مکمل کر لیا چنانچہ اب چاہیے کہ باقی نصف میں اللہ سے ڈرے"
        نکاح جس کو عرف میں شادی سے تعبیر کیا جاتا ہے اس میں بہت سے راز  حکمتیں اور مصلحتیں چھپے ہوئے ہیں جیسے ایک انسان کا اپنی بشرى خواہش کو پورا کرنے کے لئے غلط راستوں اور بدکاریوں سے بچ جانا انسانی دلوں میں سکون و طمانیت کا پیدا ہوجانا اور اللہ کی بندگی کرنے میں خشوع و خضوع پیدا ہونا برے خیالات اور بد نظرى سے محفوظ ہو جانا نیز امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی ہے ، کہ تم ان عورتوں سے شادی کرو جو زیادہ بچے جنتی ہوں تاکہ میں کل قیامت کے دن اپنی امت کو کثیر تعداد میں میں دیکھ کر فخر کروں___
     اسلام نے نکاح کو صرف ایک معاہدہ ہی نہیں بلکہ ایک گونہ عبادت کی حیثیت بخشی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ نکاح کی مجلس میں شرکت کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے اور اسی سے اس بات کی بھی تردید ہو جاتی ہے کہ رہبانیت ( جو کہ مرد اپنے سماجی و معاشرتی زندگی کو چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلات میں زندگی گزارتا ہے) یہ اللہ کو بالکل محبوب نہیں اسی وجہ سے کہا گیا:
        *لارهبانيةفى الاسلام*
    " کہ اسلام میں رہبانیت نہیں"
      شریعت اسلامی میں نکاح کے مقاصد میں سے ایک مقصد فریقین کا
         *هن لباس لكم وانتم لباس لهن*
         کا مصداق بنتا ہے کہ عورت ایک دوسرے کے لئے لباس  ہوں اور ایک دوسرے کے راز دار ہوں خوشی، رنج و غم، درد و مصیبت تمام چیزوں میں ایک دوسرے کے شریک ہوں کیونکہ انسانی فطرت کو یہ بات زیب نہیں ہے کہ وہ اپنے سارے راز چھپا کر دینی و دنیوی معاملات کو پس پشت ڈال کر گوشہ نشینی اختیار کرلے یہی وجہ ہے کہ ابا آدم علیہ السلام جب جنت میں تھے تو وہ بھی جنت کی ساری نعمتوں کے باوجود کسی کی کمی محسوس کر رہے تھے اور اللہ تعالی نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ابا آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے اماں حوا علیہ السلام کو پیدا کیا کہ ان کی شریک حیات بنی رہیں__




          نکاح میں ایک پہیلی کفو غیر کفو کا ہے جو شرائط نکاح کے ساتھ ضروری قرار دیا جاتا ہے جس پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں اکثر عورت کہ اولیاء واعزہ کو کف افسوس ملنا پڑتا ہے اور نتیجتا بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے جس سے فریقین کی زندگی تباہ و برباد ہو جاتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ طلاق کی کئی صورتیں ہیں اور اللہ تعالی نے ان کے حل کرنے کا طریقہ بھی قرآن کریم میں بتلایا ہے__
       لیکن دوسری طرف میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی پیش نظر رہنی چاہئے جو طلاق جیسے فعل قبيح کہ قبيح  ہونے پر دلیل ہے
        *وابعض الحلال الى الله عزوجل الطلاق** 
کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام حلال کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے__
        ایک ولی کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ جو لڑکی اس کے ماتحتى میں رہتی ہو وہ کفو غیر کفو کا خیال رکھتے ہوئے نکاح کرائے کہ مثلاً لڑکا کس قابلیت کا ہے ؟ وہ کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے؟ اس کا گھرانہ ماحول کیسا ہے؟ لڑکے میں دینداری کتنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ  اسی طرح ایک نکاح کرنے والا خواہش مند لڑکے کا نظریہ بھی یہی ھونا چاہیئے کہ وہ پاکباز ، باپردہ دیندار نیک لڑکی ڈھونڈے تاکہ وہ اس کی شریک حیات بن کر آنے والی اولاد کی اچھی سے اچھی تربیت کر سکے__
مگر افسوس صد افسوس آج ہمارے مسلم معاشرے میں اغیار کے طریقوں کو اپنا کر نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کی بیٹیاں ہزاروں کی تعداد میں شادیوں سے محروم ہوگئی ہوگئیں جن کی طرف  کوئی نظر اٹھانا تک گوارا نہیں کرتا جن کا کوئی پرسان حال نہیں جو تنگ دستی بے بسی اور احساس کمتری میں مبتلا ہوکر اپنی بقیہ زندگی کے سلسلے میں تاریکی محسوس کرنے لگی ہیں ، دعا کریں کہ امت مسلمہ میں ایسی بیداری اور وسائل پیدا کرے جس سے ہر ایک کا نکاح باآسانی ہوسکے________

آمین یا رب العالمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں