اچھے شوہر اور بیوى کی پہچان
اچھے شوہر اور بیوى کی پہچان
از قلم :اسعد اقبال یکہتوی
متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
لڑکے اور لڑکیاں جب بالغ اور جوان ہو جاتے ہیں تو ان کی شادی کر دیی جاتی ہے اور وہ شوہر اور بیوی بن جاتے ہیں، شوہر اور بیوی بن کر ان کا بنیادی کام ایک گھر بسانا اور خاندان کی شروعات کرنا ہوتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ نئے دولہا دلہن کو رہنے اور اپنے گھرگر ہستی شروع کرنے کے لئے یے الگ گھر ملے، مگر ہمارے ملک میں چونکہ غربت عام ہے اور لوگوں کو رہنے کے لئے آسانی سے گھر نہیں ملتا ہے اس لئے ایک چھت کے نیچے کئی کئی خاندان ایک ساتھ رہتے ہیں۔ شوہر ہونے کی حیثیت سے ایک مرد کا بنیادی فرض یہ ہے وہ محنت و مشقت کرکے پیسہ کمائے اگر محنت مزدوری کر کے پیسہ نہیں کمائے گا تو گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ جو مرد محنتی اور ہنر مند ہوتا ہے اور ضرورت کے مطابق پیسہ کماتا ہے وہ خاندان اور سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا یے جو شوہر نکما اورناکارہ ہو، گھر والوں کے لئے پیسہ نہ کماتا ہو، اس کی عزت نہیں ہوتی ہے ۔ بیوی ہونے کی حیثیت سے عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شوہر کے گھر کو سلیقے سے سجائے سنوارے اور گھر میں خوشگوار ماحول پیدا کرے۔ شوہر کی کمائی ہوئی دولت کو سلیقے اور کفایت شعاری کے ساتھ خرچ کرے تاکہ ساری ضرورتیں ہر ماہ ہونے والی آمدنی میں پورے ہو جائیں کسی سے قرض نہ لینا پڑے ۔آمدنی کم ہو اور ضرورتیں مشکل سے پوری ہوتی ہوں تو بچت مشکل ہوتی ہے اور ہنگامی خرچوں کے لیے قرض لینا ہی پڑتا ہے، یہ الگ بات ہے لیکن روزمرہ کی ضرورتوں کے لیے قرض لینا اچھی بات نہیں ہے ۔جب شوہر اور بیبی اپنے ماں باپ کے گھر میں رہتے ہوں تو ان کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے بیوی کو شوہر کے ساتھ ساتھ شوہر کے ماں باپ اور بھائی بہن کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور انکی خدمت بھی کرنی پڑتی ہے ۔قانونی طور پر تو شوہر کی ماں باپ اور بھائی بہن کی خدمت کرنا بیوی کا فرض نہیں ہے، لیکن اخلاق قانون سے بڑی چیز ہے ۔ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ انسان غیروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرے، ساس ،سسر،نند اور دیور تو اپنے ہی ہیں ۔
گھر میں رہنے والے ساس، سسر ،نند اور دیور کی بھی ذمہ داری ہے کہ گھر کی بہو پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں اور اس کی بساط سے زیادہ امید نہ رکھیں۔بہو کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک کرنا بڑی نیکی ہے ۔جب وہ ایسا کریں گے اور بہو اچھے اخلاق کی ہوگی تو وہ بھی ساس، سسر کو ماں باپ کے جیسا ہی سمجھے گی اور نند اور دیور کو بھی بھائی بہن تصور کرے گی ایسے گھر میں شوہر کے لئے بڑی آزمائش ہوتی ہے ماحول ہمیشہ خوشگوار نہیں رہتا کڑواہٹ بھی پیدا ہوتی ہے گھر والے سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکا بدل گیا اب پہلے جیسا ہمارا خیال نہیں رکھتا ہے بیوی کی شکایت ہوتی ہے کہ شوہر کو بیوی سے زیادہ اپنے گھر والوں کا خیال رہتا ہے ایسے موقع پر شوہراگر عقل مندی سے کام نہ لے تو شکایتوں کا دفتر دراز ہوتا ہے اور تعلقات خراب ہوکر نو بت علاحدگی تک آجاتی ہے ایسے موقع پر شوہر کا فرض ہے کہ عدل و انصاف سے کام لے پیدا ہونے والی باتوں کا گہرائی سے مطالعہ کرے ، مسئلہ کی تہہ تک پہنچ کر اس کو حل کرنے کی کوشش کرے ماں باپ بھائی بہن یا بیوی کی محبت میں حد سے گزر نہ جائے۔ جس کا جو حق ہو اس کے مطابق اس کو دے اورسمجھائے کہ اپنے حق سے زیادہ لینا یا اس کی توقع رکھنا نادانی ہے ۔حکمت سے کام لیا جائے تو بہت سے مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتے ہیں ،قرآن میں کہا گیا ہے کہ بیوی میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ خامیاں بھی ہو سکتی ہیں،اور ان خامیوں کو دیکھ کر بد دل نہیں ہونا چاہیے ۔شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی قدر کرنی چاہئےاور آپس میں سمجھوتا کرنی چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے