انسانی خوبیوں کا سر چشمہ تعلیم؟








         میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی روح بغیر تعلیم۔
 کے چتكبڑے سنگ مرمر کے پہاڑ کی مانند ہے کہ جب تک سنگتراش اس نے ہاتھ نہیں لگاتا اس کا دھنده‍لا پن اور کھردرا پن دور نہیں کرتا، اس کو خراش تراش كرسڈول نہیں بناتا ، اس كو پالش اور جلا سے آراستہ نہیں کرتا، اس وقت تک اس کے جوہر اسی میں چھپے رہتے ہیں اور اس کے خوشنما اور دلربارنگتیں اور خوبصورت بیل بوٹے ظاہر نہیں ہوتے یہی حال انسان کی روح کا ہے، انسان کا دل کیسا ہى نیک هو مگر جب تک اس پر عمدہ تعلیم کا اثر نہیں ہوتا اس وقت تک ایک نیکی اور ہر ایک قسم کے کمال کی خوبیاں جو اس میں چھپی ہوئی ہیں اور جو بغیر اس قسم کی مدد کے نمود نہیں ہوسکتیں ظاہر نہیں ہوتیں__________
 ارسطو نے تعلیم کے اثر کو مجسم مورتوں کے بنانے کی تشبیہہ میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ موهنی مورت ایک پتھر کے ڈه‍وئے  میں چھپی ہوئی ہوتی ہے ، مگر مورت بنانے کا ہنر فضول چیزوں کو ان میں گهڑ دیتا ہے، مورت تو پتھر ہی ہوتی ہے مگرآزر صرف اس کو نمود کر دیتا ہے ، جو نسبت کہ مورت گھڑ نے والے کو اس پتھر کے ڈھوئے سے ہے وہی نسبت تعلیم کو انسان کی روح سے ہے، بڑے بڑے حکیم اور عالم، ولی و ابدال، نیک و عقلمند، بہادر و نامور، ایک گنوار آدمی کی سی صورت میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں، مگر ان کی یہ تمام خوبیاں عمدہ تعلیم کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہیں ، جب میں جاہل اور وحشی  قوموں کے حالات پڑھتا ہوں تو  ان نیکیوں سے جوان میں ہیں مگر ناشائستہ،  اور اس دلیری اور جرات سے جوان میں ہیں مگر خوفناک، اور اس استقلال سے جوان میں ہے مگر بے ڈھنگا، اور اس سے دانائی اور عقل مندی سے جو ان میں ہے مگر جانوروں کے سے مکر و فریب سے ملی ہوئی، اور اس صبر و قناعت سے جو ان میں ہے اور گویا نا امید یا ں ہی ان کی امیدیں ہیں،نہایت خوش ہوتا ہوں،سچ ہے کہ انسان کے دل کے جوش مختلف طرح پر کام کرتے ہیں اور جس قدر کم و بیش عقل کی ہدایت ان کو ہوتی ہے اور جس قدر عقل کہ ان جوشوں کو درست کرتی ھے اس قدر مختلف طور پر ان سے کام ہوتے ہیں،امریکہ کہ حبشی غلاموں کا جب ہم یہ حال سنتے ہیں کہ اپنے آقا کے مرنے پر یا ایک کام پر سے چھوڑا کر دوسرے کام میں لگانے پر جنگلوں کے درختوں میں لٹک کر اپنی جان دے دیتے ہیں،یا ایک ہندو عورت اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ زندہ جل کر ستی ہوجاتی ہے،تو کون شخص ہے جو ان کی وفاداری اور محبت کی تعریف نہ کرے گا، گو کہ کیسے ہی نا شائستہ اور مہذب طور سے ظاہر ہوتی ہے، اس قسم کی جاھل اور وحشى قوموں کے دلوں میں بھی نہایت عمدہ  عمده باتیں پائی جاتی ہیں ، گووہ وحشى پنے ہی کی حالت میں کیوں نہ ہوں لیکن اگر ان کی مناسب طور سے اور عمده کام و مہذب و شائستہ نیکیاں ان سے پیدا ہوسکتی ہیں، مجھ کو اس بات کا رنج ہے کہ میں اپنی قوم میں  ہزاروں نیکیاں دیکھتا ہوں پر ناشتہ، ان میں نہایت دلیر اور جرأت قومی استقلال دیکھتا ہوں  پر بے ڈھنگا، ان کو نہایت دانا اور عقلمند پاتا ہوں پر اکثر مکر و فریب اور زور سے ملے ہوئے ، ہیں ان میں صبر و قناعت بھی اعلی درجه ک ہے مگر غیر مفید اور بے موقع پس میرا دل جلتا ہے، اور میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہی ان کی عمده صفتیں تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو جائیں تو دین اور دنیا دونوں کے لیے کچھ مفید ہوں______

 میری یہی خواہش ہے کہ اس قسم کی تحریرات سے  نیکی کو ترقی دوں ، گو میری يه خواہش پوری نہ ہو مگر میں اس خیال سے تو بہت خوش ہوں کہ میں ہر چند روز میں انسان کی دل کی درستی میں کچھ کچھ مدد کرتا رہتا ہوں __

تبصرے

گمنام نے کہا…
Very good 👍

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں